خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 602 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 602

خطبات طاہر جلد 15 602 خطبہ جمعہ 2 راگست 1996ء کی ، بہت اچھی تحریکات ہیں ان میں گہرے انسانی جذبات ہی کارفرما ہوتے ہیں مگر اللہ کا خوف دامن گیر ہو یہ لازم نہیں ہے۔بعض دہر یہ بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔بہت سی ایسی تنظیمیں موجود ہیں جو افریقہ کے مظلوموں کی مدد کر رہی ہیں۔جہاں پانی نہیں ملتا ان کے لئے پانی کی اپیلیں ہیں۔آپس کی جنگوں میں اور فسادات میں جو لوگ مجروح ہو جاتے ہیں، مظلوم ہوتے ہیں ، ان کی مدد کے لئے یہ محض انسانی ہمدردی سے تعاون ہوتا ہے مگر لازم نہیں کہ وہ خدا کی خاطر ایسے کرتے ہوں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے میں جانتا ہوں بہت سے ان میں ایسے ہیں جن کا عیسائیت سے بھی کوئی خاص تعلق نہیں رہا صرف بنی نوع انسان کی ہمدردی ان کا مذہب بن جاتا ہے۔تو تقویٰ کا وہ مضمون جو اللہ سے ملاتا ہے وہ اس سے خالی ہوتے ہیں۔تو مومن کو نصیحت فرمائی گئی کہ ”بر “ وجہ سے صرف نہ کرو تقوی“ کی وجہ سے بھی کرو۔اگر تقویٰ کی وجہ سے کرو گے تو تمہاری یہ نیکی دونوں جہان کی سعادتیں دلوانے کا موجب بن جائے گی۔اگر محض نیکی کی خاطر کرو گے یعنی دل کی ہمدردی سے تو اس کی جزا تو پاؤ گے مگر وہ اعلیٰ جزا جو تمہیں مل سکتی ہے اس سے محروم رہ جاؤ گے۔اب ظاہر بات ہے کہ تقوی کا یہ معنی بلند تر معنی ہے اس معنی سے جو میں " " نے پہلے بیان کیا تھا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ آپ کوئی کام کریں اور کسی کی خاطر کرتے ہوں اور اس کو علم ہو کہ یہ تکلیف میری خاطر اٹھا رہا ہے تو کام خواہ نیکی کا ہو خواہ عام کام ہومگر جس کی خاطر آپ کرتے ہیں وہ سمجھتا ہے کہ مجھ پر اس کا ایک قسم کا احسان ہو گیا ہے۔یہ اگر احسان نہیں رکھا جا سکتا تو کم سے کم اس نے تو میری محبت کی خاطر یہ تکلیف اٹھائی ہے اعلیٰ اخلاق کا تقاضا ہے کہ میں بھی اس کی خاطر کچھ ایسا کام کروں جو میرے لئے کرنا فرض نہ ہو یعنی فرض سے بڑھ کر اس کے لئے کوئی خدمت کروں۔پس اللہ تعالیٰ کے احسانات کو کھینچنے کے لئے یہ آیت کریمہ ایک بہت ہی عمدہ گر ہمیں بتلاتی ہے۔بنی نوع انسان کی ہمدردی تو جس کے دل میں ہوگی اس نے تو کچھ کرنا ہی کرنا ہے اگر رضائے باری تعالی پیش نظر ہو اور اس کی خاطر آپ تعاون کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے پیار کی نگاہیں آپ پر پڑیں گی ، آپ کی ہر نیکی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا موجب بن جائے گی۔جس کی دنیا سنوار میں گے اس کا دنیا سنوارنا آپ کی دنیا بھی سنوار جائے گا اور آپ کی عاقبت بھی سنوار جائے گا۔یہ وہ دوسرا پہلو ہے وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوىی کا جسے ہمیں لازماً پیش نظر رکھنا چاہئے۔