خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 599
خطبات طاہر جلد 15 599 خطبہ جمعہ 2 اگست 1996ء ان نیکیوں سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں مگر ہر انسان کے لئے ضروری نہیں ہے کہ رستہ چلتے ہوئے ضرور کھڑا ہو اور ہر آدمی کی ضرورت پوری کئے بغیر آگے نہ بڑھے۔ اگر یہ ہو تو ساری دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے لیکن کچھ نہ کچھ کو ضرور توفیق ملنی چاہئے۔ پس تعاون کا مضمون عام بھی ہے اور Selective بھی ہے یعنی حسب ضرورت تم میں روح ہونی چاہئے ۔ جہاں تمہاری ضرورت ہو تم سمجھو کہ تمہاری ضرورت کے بغیر کوئی نیک کام ہونے سے رہ جائے گا وہاں اُمت محمدیہ سے یہ اللہ تعالیٰ کو توقع ہے کہ یہ پوچھے بغیر کہ یہ کس نے کہا ہے، کیوں ہم تعاون کریں کس کا حکم آیا ہے فرمایا تمہاری فطرت کے اندر خدا نے داخل فرمادیا ہے نیکی کے کاموں میں تعاون کرنا ہے یہاں تک کہ بدوں سے بھی تعاون کرنا ہے ، مشرکوں سے بھی تعاون کرنا ہے۔ یہ فطرت ثانیہ بنا لوتو نظام اسلام کو پھر کبھی کوئی ٹھوکر نہیں لگ سکتی کیونکہ نظام اسلام تو نیکیوں کے رائج کرنے کا نام ہے۔ حاکم اور محکوم کے جھگڑے مٹا دیتا ہے تعاون اور وہ احساس کمتری جو بسا اوقات اطاعت کی راہ میں حائل ہوتا ہے وہ احساس کمتری تعاون کرنے والوں میں ہوتا ہی نہیں۔ اگر ہے تو وہ تعاون نہیں کر سکیں گے۔ ایک انسان جب ایک غریب آدمی کے کاموں میں اس کا مددگار بنتا ہے تو اس کو جھکنا پڑتا ہے اور جو احساس کمتری کا شکار ہو وہ سمجھتا ہے کہ اس کے ساتھ اگر میں نے کام کیا، اس کے لئے اگر میں جھکا تو گویا میری عزت میں فرق آ جائے گا لیکن جسے کوئی احساس کمتری نہ ہو وہ ہر ایک کا کام کرتا ہے اور شرم محسوس نہیں کرتا بلکہ وہ کام کرنے سے اپنے نفس میں ایک عزت پاتا ہے۔ وہ احساس عزت اس کا مقصود نہیں ہوتا مگر جزا کے طور پر ملتا ہے۔ اور ہر انسان جو نیکیوں میں تعاون کرنے والا ہو وہ معزز سے معزز تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ وہ لوگ صاحب اکرام ہو جاتے ہیں اور نبوت کا بھی یہی رستہ ہے جس رستے سے بالآخر نبوت تک بھی صلى الله انسان پہنچ سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت خدیجہ نے جب آنحضرت ﷺ کو وحی کے بعد بہت ہی درد ناک حالت میں پایا اور آپ نے زملونی زملونی کہہ کر یہ متوجہ کیا کہ میں تو نفسیاتی لحاظ سے شدید بحران کا شکار ہو چکا ہوں مجھے سخت سردی لگ رہی ہے ۔ یہ ایک سردی کا لگنا جیسے ملیر یا بخار میں لگتی ہے یSepti c بخاروں میں لگتی ہے اس کا ایک تعلق اندرونی نفسیاتی بحران سے بھی ہے۔ بعض دفعہ جب کسی کو اچانک صدمہ پہنچے یا اچانک گھبراہٹ کی خبر ملے تو اچانک اسی طرح بہت تیزی کے ساتھ ہاتھ