خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 589 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 589

خطبات طاہر جلد 15 589 خطبہ جمعہ 26 جولائی 1996ء ہو۔ - کچھ تھا نشاں ہم نے چاند سے تجھے دیکھا میرے آقا لیکن اس کے نور میں کچھ معمولی سی جھلک تھی تیری روشنی کی ، اس روشنی نے ہمیں تیرا دیوانہ بنایا اور تیری تلاش میں چاند سے پرے نکل کھڑے دن ہے جو اس ساری نظم کی جان ہے، ہر مصرعے کی جان ہے اور ذرے پر غور کیا ان کے خواص پر غور کیا ایک ایسا جہان پایا جو نہ ختم ہونے والا جہان ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کلام سے تعارف حاصل کریں تو پھر بھی آپ کو پتا چلے گا کہ یہ گواہی کیسے دی جاتی ہے کہ اشهدان لا اله الا الله واشهدان محمداً عبده ورسوله - ہر روز جو آپ کے لئے خدا تعالیٰ نشان دکھاتا ہے اور ہر شخص کے لئے کچھ نہ کچھ نشان خواہ وہ دہر یہ بھی ہو ضرور ظاہر ہوتے ہیں اس کو وہ اتفاقات کے حوالے کر دیتا ہے۔ کہتا ہے اتفاقا میری جان بچ گئی ، اتفاقا یہ واقعہ ہو گیا ۔ اگر بارش اتنے دن کے بعد نہ ہوتی تو پتا نہیں کیا ہو جاتا ۔ اس بے وقوف کو علم نہیں کہ ہر چیز کے اندازے ہیں اور پہلے سے مقدر ہیں۔ ہر چیز ایسے اندازوں پر چلائی جارہی ہے جو اپنے وقت پر ظاہر ہونے والے اندازے ہیں۔ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ (الحجر (22) وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَابِنُهُ فرمایا کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو تم سوچ سکتے ہو مگر اس کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور خز آپنے میں جو تصور ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ لامتناہی ، لامحدود خزانوں کی بات ہو رہی ہے وَمَا نُنَزِلُه إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوم اس چیز کو جس کے خزانے ہیں ہم اتارتے ہیں اندازوں کے ساتھ ساتھ اور اندازے میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے تمہارے ارے اندر وہ ظرف پیدا ہو چکا ہے کہ نہیں ، کہ ان خزانوں کو استعمال کر سکو۔ اب جس بچے کے دانت نہ نکلے ہوں اس کے منہ میں آپ اچھا ما بھونا ہوا مرغا ڈال دیں تو اسے جان سے مارنے والی بات ہوگی ۔ ہر شخص کا اپنا ایک ظرف ہے اس ظرف کے مطابق خدا تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی غذا ضرور بنا رکھی ہے اور انسان کا بھی ایک ظرف ہے جو بڑھتا چلا جا رہا ہے اور اس بڑھتے ہوئے ظرف کے مطابق خدا تعالیٰ اپنے خزانے اس پر اتارتا چلا جا رہا ہے۔ اِنَّا لَمُوسِعُونَ (الذاریات (48) کا یہ مضمون ہے جو ہمیں لامتناہی کا ئنات پر پھیلا ہوا دکھائی دیتا ہے آج تک کب وہ دن چڑھا کہ انسان کا دماغ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ چیزوں سے آگے بڑھ گیا ہو۔ اسے ضرورت ہو کسی چیز کی ، اپنے دماغ کے نتیجے میں یعنی دماغی صلاحیتوں کے نتیجے میں اس نے کچھ ایسی باتیں دریافت کی