خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 584 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 584

خطبات طاہر جلد 15 584 خطبہ جمعہ 26 / جولائی 1996ء بلامبالغہ پورے یقین کے ساتھ آپ کو بتا رہا ہوں آج تک سائنس کسی ایک جستجو میں بھی یہ نہیں کہ سکی کہ ہم نے آخری کنارے کو پالیا ہے۔جس کو وہ آخری کنارہ سمجھتے ہیں اس کنارے سے اور کنارے پھوٹ جاتے ہیں جیسے پانی پہ پتھر پھینکیں تو جو پہلی ہر اٹھتی ہے وہ کم دائرے کی ہوتی ہے، تھوڑے دائرے میں محدود ہوتی ہے مگر وہ ہر در پہ پھیلتی چلی جاتی ہے اور پھر وہ ساری کائنات پر محیط ہو جاتی ہے اور کبھی مٹ نہیں سکتی۔اگر اس کا دائرہ محدود نہ ہو جس میں وہ ہمٹی پڑی ہے یعنی وہ سمندر تو جواہر اٹھے گی اگر دوسرے عوامل اس کو ختم کرنے کے لئے مقابل کی کوشش نہ کریں تو اپنی ذات میں جواہر اٹھتی ہے وہ پھیلتی چلی جائے گی اور اس کے دائرے وسیع تر ہوتے چلے جائیں گے۔پس خدا کی کائنات کا یہ علم تو لامتناہی ہے۔مگر ہر ذرے کا علم لا متناہی ہے یہ ہے مضمون جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔کوئی ایک ذرہ بھی ایسا نہیں کائنات کا جس میں آپ خدا کے علم پر محیط ہوسکیں اور ربوبیت کے تعلق میں جب آپ غور کریں تو وسیع علمی غور اگر نہ بھی کر سکیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اپنے انفس میں تو دیکھو۔دوہی ذریعے ہیں خدا کو پانے کے یا آفاقی نظر پیدا کر واور ساری کائنات پر نظر دوڑ او یا پھر اپنے نفوس میں سمٹ جاؤ ، اپنی ذات میں ڈوبو اور وہاں تلاش کرو کہ تم میں خدا تعالیٰ نے ربوبیت کے کیسے کیسے عظیم الشان راز پنہاں کر دیئے ہیں۔ایسے راز ہیں جن کا سلسلہ ختم ہو ہی نہیں سکتا۔اگر یہ بھی توفیق نہیں تو یہ تو دیکھو کہ خدا نے روزانہ تمہارے لئے کیا کھانے پینے کا انتظام کیا ہوا ہے اور ہر بندے کے لئے جو زندہ ہے کچھ نہ کچھ اس کی غذا کا انتظام موجود ہی ہے اور ہر پرندے کے لئے موجود ہے ہر چرندے کے لئے موجود ہے۔آج صبح جب میں سیر پر گیا تو ایک چھوٹا سا پرندہ بہت ہی خوبصورت گھاس پر کچھ چگ رہا تھا۔مجھے تو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا وہ کیا کھا رہا ہے لیکن اس کی باریک نظر اس کو بتارہی تھی کہ فلاں جگہ چونچ مارو اور اس کی چونچ ہمیشہ بھری ہوئی نکلتی تھی۔اب اس کو سکھایا کس نے۔یہ پہلو جو ہے یہ بھی تو عزیز حکیم سے تعلق رکھتا ہے۔صرف کھانا رکھ دینا کافی نہیں، کھانے تک پہنچنے کی استطاعت پیدا کرنا بھی تو کام ہے اور ہر وجود کو پتا ہے کہ میرا کھانا کہاں ہے۔وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْ دَعَهَا ( صور : 7) وه جانتا ہے کہاں میں عارضی قرار پکڑوں گا اور کہاں میں نے لوٹ کر جانا ہے۔پس آج میں اس پرندے کو دیکھتا دیکھتا ظاہری سیر کو بھول کر ایک اور ہی سیر میں ڈوب گیا۔میں نے سوچا کہ اللہ کی شان دیکھو