خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 53
خطبات طاہر جلد 15 53 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 1996ء پس رمضان کے مہینے کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھیں جہاں ظاہری علامتوں کا نعطل ہو گیا ہے وہاں آپ پر فرض ہے کہ روز مرہ کے معمول کے دنوں کا اندازہ کریں۔معمول کے دن قرآن کی تعریف سے یہ بنیں گے کہ جن دنوں میں صبح کی سفیدی اور شام کی شفق کے درمیان میں ایک اندھیرا حائل ہو، تاکہ قرآن کریم کی یہ بات پوری اتر سکے کہ سفید دھاگہ کالے دھاگے سے الگ ہو جائے اور اگر دونوں دھاگے ہی سفید ہوں تو پھر الگ کیسے ہوں گے۔اس لئے تمام جماعتوں میں علماء کے ایسے بورڈ بنانے چاہئیں، ان تمام جماعتوں میں جو یا جنوب کے زیادہ قریب ہیں یا شمال کے زیادہ قریب ہیں تا کہ اپنی اپنی جماعتوں کی راہنمائی کر سکیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ ایک ہی ملک میں بعض دفعہ ایک رمضان ایک جگہ غیر معمولی ہو جاتا ہے، دوسری جگہ معمولی رہتا ہے اور جتنا شمال کی طرف یا جنوب کی طرف جائیں گے اتنا ہی ایک ملک کے اندر رہتے ہوئے بھی تفریق کرنا پڑتی ہے۔پس بجائے اس کے کہ آپ ہر بات مرکز سے لکھ کر ہم سے حساب کروائیں ، اصول سمجھ لیں اور پھر جو آپ کے ہاں مختلف گورنمنٹ کے محکمے ہیں موسمیات کے ان سے مشورہ کریں۔آبزرویٹری Observatory جو بھی ہے جو بھی ان کی رصد گاہیں بنی ہوئی ہیں جہاں سے وہ زمین و آسمان کا مطالعہ کرتے ہیں یعنی موسمیات کے دفتر اور ان کے محکمے ان سے مشورہ کر کے تو مختلف جماعتوں کے لئے رمضان سے پہلے ہی ان کے شیڈول Schedule بنانے چاہئیں اور بتانا چاہئے کہ فلاں جماعت کا معمول کا رمضان فلاں دن سے فلاں دن تک ہے اور فلاں سے فلاں دن تک کا جورمضان کا حصہ ہے وہ معمول سے نکل گیا ہے اس لئے وہاں آپ کو قرآن کریم اختیار دیتا ہے اور آنحضرت ﷺ یعنی آنحضرت ﷺ نے جو قرآن کا مفہوم سمجھا اور وہی درست ہے وہ آپ کو اختیار دیتا ہے کہ اندازے کے مطابق اپنی نمازوں کو بھی تقسیم کریں اور روزوں کے وقت بھی مقرر کریں۔اور ایسی صورت میں دو طریق ہیں دونوں میں سے ایک آپ اختیار کر سکتے ہیں۔ایک یہ ہے کہ معمول کے دن کے روزوں سے مراد بارہ گھنٹے کا دن ، بارہ گھنٹے کی رات لے لی جائے جو وسطی ہے لیکن اگر یوں کریں گے تو ان دنوں کا اس ملک کے باقی دنوں سے بہت زیادہ فرق ہو جائے گا اور جہاں بھی معمول کے دنوں کا غیر معمولی دنوں سے جوڑ ہوگا وہاں تفریق بہت بڑی ہو جائے گی۔اس لئے دوسرا جو طریق ہے جو میرے نزدیک زیادہ مناسب ہے وہ یہ ہے کہ اپنے سے قریب تر معمول