خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 579
خطبات طاہر جلد 15 579 خطبہ جمعہ 26 جولائی 1996ء اپنے مضمون کے اعتبار سے بچی بھی ہوں تو آپ بطور جھوٹے گواہ لکھیں جائیں گے تو اس وقت تک آپ کو ایک گھبراہٹ پیدا نہیں ہوگی ، اپنے دل میں ایک پریشانی اور انتباہ کی کیفیت محسوس نہیں کریں گے۔پریشانی اس بات پر کہ ہم منہ سے جو کہتے ہیں ہمیں پتا ہی نہیں، ہم کہہ کیا رہے ہیں اور واقعہ جو کہتے ہیں وہ دل میں ہے بھی کہ نہیں اور اگر سچ سمجھ کے بھی کہہ رہے ہیں تو اس کے حق میں ہمارے پاس کیا ثبوت ہیں اور انتباہ ان معنوں میں کہ اگر یہ صورت حال غفلت کی اسی طرح رہے اور اسی حال پر انسان جان دے دے تو تمام عمر کی نمازوں کی ہر گواہی جھوٹی لکھی جائے گی۔آج جو دنیا میں بدکرداری کا دور ہے جس کی طرف میں نے شروع ہی میں اشارہ کیا کہ شرک ہی شرک پھیلا ہوا ہے اس میں یہی تو ہو رہا ہے۔کتنے مذاہب ہیں جو یہ گواہی دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے یا ایک سے زیادہ بھی مانیں تو ایک خدا کے حق میں بھی گواہی دیتے ہیں مگر عملاً ان کے کردار پر اس گواہی نے کیا اثر ڈالا اور ان کا کردار اس گواہی کے حق میں کیا ثبوت پیش کر رہا ہے۔پس اس پہلو سے ہم نے جو تمام دنیا کو تو حید پر اکٹھے کرنا ہے اور تمام دنیا کو شرک سے نکال کر تو حید کی پناہ گاہ میں لانا ہے ہم پر کس حد تک یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کا تصور کیجئے کہ ہم تو حید کا سفر اپنی ذات سے شروع کریں۔اگر غفلتوں کی حالت میں ہم نمازیں پڑھتے رہے تو نہ ہم موحد بن سکیں گے نہ دنیا کو موحد بناسکیں گے کیونکہ تو حید کا مضمون سچائی سے تعلق رکھتا ہے۔ایسے علم سے تعلق رکھتا ہے جو معز ز علم ہے جو عزت لاتا ہے اور غلبہ لاتا ہے اور پھر حکمت سے تعلق رکھتا ہے۔تو اس تعارف کے ساتھ میں آپ کے سامنے یہ ضمون نسبتاً زیادہ کھولتا ہوں ، روزمرہ کی زندگی کے حوالے سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ہم اگر سارا دن جھوٹ بولتے ہوں ، سارا دن بدکلامیاں کرتے ہوں ، جہاں اپنی ذات کا تعلق ہو وہاں انصاف کا گز اور طرح کا بنائیں ، جہاں غیر کی ذات کا تعلق ہو وہاں انصاف کا گز اور طرح کا بنالیں ، پیمانے بدلتے رہیں اور روزمرہ کی زندگی میں جھوٹ کی اتنی عادت ہو چکی ہو کہ جو سچے ہیں وہ بھی اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مقام پر ضرور پھسل جاتے ہیں اور سچائی اس حد تک اپناتے ہیں جس حد تک اس کا اپنانا ہمیں نقصان نہیں پہنچا تا اور جہاں سچائی اور نقصان آمنے سامنے کھڑے ہوئے وہاں کب اور کس حد تک ہم سچائی کو پکڑتے اور جھوٹ کو ترک کر دیتے ہیں ، مردود کر دیتے ہیں یہ وہ سوال ہے جو پہلے نفس میں اٹھنا چاہئے اور روزانہ اٹھنا چاہئے۔اگر ہماری یہی کیفیت رہے کہ ہمیشہ