خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 578
خطبات طاہر جلد 15 578 خطبہ جمعہ 26 جولائی 1996ء لا متناہی سلسلہ ہے۔مگر ہر روز خدا نے علم کے ساتھ اپنے بندوں پر ظاہر ہوتا ہے نئی حکمتوں کے ساتھ مگر اپنے بندوں پر ظاہر ہوتا ہے۔پس ہم کس حد تک خدا کے بندے بن رہے ہیں بالا رادہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہمارا قدم اٹھ رہا ہے اور کیا ہر صبح ہم یہ گواہی دے سکتے ہیں کہ ہاں ایک ہی خدا ہے اور کوئی خدا نہیں اور اس گواہی کے حق میں ہمارا کون سا علم ہے جو بطور دلیل کے ہم دنیا کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔اپنی ذات پر آپ غور کر کے دیکھیں تو روزانہ صبح سے رات تک اور پھر رات کو سوتے وقت بھی آپ کی خوا ہیں آپ پر گواہ بن جاتی ہیں۔صبح سے شام تک ہونے والے واقعات اور ان واقعات میں وہ فیصلے جو آپ کرتے ہیں وہ آپ پر گواہ بن جاتے ہیں اور آپ کی شخصیت کو خود آپ سے ہی تعارف کرواتے رہتے ہیں آپ کی خواہیں بھی وہی کردارادا کرتی ہیں۔پس سوتے اور جاگتے ہم اپنی ذات سے متعارف ہورہے ہیں اور اس تعارف کے نتیجہ میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم جب التحیات للہ میں خدا کے حضور جو تحیہ پیش کرتے ہیں اس تحیہ میں سچائی ہے بھی، کہ نہیں اور جب ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ آج ہم گواہی دے رہے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو کس برتے پر گواہی دیتے ہیں۔کون سا نیا علم ہم نے خدا کی ذات کے تعلق میں حاصل کیا ، کون سی ایسی حکمت کی بات ہمیں معلوم ہوئی جس پر ہم کہ سکیں کہ ایک ہی خدا ہے اور کوئی خدا نہیں۔تو محض اشھد کہہ کر انگلی اٹھا دینا اور گواہی دے دینا یہ ہماری نجات کا موجب نہیں بن سکتا نہ ہی یہ گواہی کسی کے لئے قابل قبول ہوسکتی ہے کیونکہ ایسی ہی گواہی دینے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ بعض اوقات ایک گواہی دیتا ہے جیسا کہ سورۃ المنافقون میں آیت دو تا چار میں ذکر ہے۔إِذَا جَاءَ كَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوْانَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ (المنافقون: 2) جب منافق تیرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں، وہی اشهد جو ہم پڑھتے ہیں، وہ کہتے ہیں نَشْهَدُ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ کہ تو اللہ کا رسول ہے وَاللهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُه اب وہی علم کا مضمون یہاں اس گواہی کے تعلق میں آیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے وَاللهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنْفِقِينَ تَكْذِبُونَ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں یعنی گواہی سچی ہونے کے باوجود جھوٹی ہو جاتی ہے۔اس حقیقت پر اگر آپ آگاہ نہ ہوں اگر آپ شعوری طور پر یہ سوچیں نہیں کہ آپ کی گواہیاں