خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 573
خطبات طاہر جلد 15 573 خطبہ جمعہ 19 / جولائی 1996ء ساتھ مخفی طور پر مجھے پہنچائی جائیں تو میں اسے یہ نہیں کہوں گا کہ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ لیکن اگر عورتوں میں بیٹھ کے عورتیں باتیں کریں تو اس کے سوا اس کا کوئی نام نہیں رکھا جاسکتا کہ وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ۔تو جو خدمت کرنے والے ہیں وہاں بھی وہ حاسدین کی نگاہ میں آسکتے ہیں۔بعض لوگ خدمت کے ایسے مقام پہ ہوتے ہیں زیادہ قرب ان کو ملتا ہے ، زیادہ آگے آتے ہیں بعض دوسرے ان کے متعلق تکلیف محسوس کرتے ہیں اور حاسد کی آنکھ کئی طرح سے نقصان پہنچادیا کرتی ہے۔پس اللہ کی پناہ میں آنا ضروری ہے۔جماعت کے حاسدوں سے بھی بچنے کی کوشش کریں اور محبت کے نتیجہ میں جب آپ قرب کو حاصل کریں گے تو احتیاط کی نظر کو نہ بھولیں۔محبت کی الله نظر بعض دفعہ غافل بھی کر دیا کرتی ہے مگر مومن غافل نہیں ہوا کرتا۔آنحضرت ﷺ سے زیادہ مومنوں سے اور کون محبت کیا کرتا تھا۔بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ (التوبہ: 128) لیکن باریک سے بار یک ان کی فطرت کے وہ خطرات جو ان کے اپنے نفس کے خلاف تھے ان سے آپ آگاہ فرماتے تھے۔وہ جانتے بھی نہیں تھے لیکن آنحضور ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ یہ بات یوں نہیں کرنی چاہئے تھی۔یوں کرنی چاہئے تھی۔پس یہ جلسہ بھی پہلے جلسوں کی طرح ہمارے لئے ایک عمومی عالمی تربیت کے پیغام بھی لایا ہے۔مواقع بھی لایا ہے۔دعائیں کرتے رہیں اللہ تعالیٰ ہمیں سب تقاضے پورے کرنے کی توفیق بخشے۔سب مہمان ہم سے خوش جائیں ہم مہمانوں سے خوش رہیں اور اب یہ جلسہ آیا تو گیا۔اب اس کے جانے کا خوف دل کو لاحق ہو گیا ہے۔میرا بھانجا بہی اس کو کہتے تھے اس کی بات مجھے ہمیشہ یاد آتی ہے بہت پیاری لگتی تھی۔یہاں انگلستان ہی میں جب وہ بالکل چھوٹا تھا اس کی والدہ میری ہمشیرہ ہیں میر داؤ داحمد صاحب مرحوم کی بیگم تو وہ ایک خاص کیفیت تھی وہ مجھے بھی بلا لیا کرتی تھیں کہ دیکھ لو اس کو اب انڈا شروع ہوتے ہی رونے لگ جاتا تھا۔کیا اچھا نہیں لگا ؟ کیابات ہے؟ کہ نہیں کچھم ہو جائے گا یعنی ختم بھی نہیں کہہ سکتا تھا ھم ہو جائے گا۔تو اب تو وہی آنسو ہیں جو میری آنکھوں سے بھی بہنے لگے ہیں۔جلسہ آیا تو ہے مگر ختم ہو جائے گا۔اللہ خیر وعافیت سے ختم کرے فضلوں کی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے اور ان جلسوں میں ہمیشہ ہمیں پہلے سے بڑھ کر خدا کے فضلوں کی زیارت کی توفیق ملے اور اس کے احسانات کا شکر ادا کرنے کی توفیق ملے۔آمین