خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 572 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 572

خطبات طاہر جلد 15 572 خطبہ جمعہ 19 / جولائی 1996ء حاسد حسد نہیں کرتا۔تو انسانوں کی بھی دو قسمیں ہیں ایک وہ ہیں جو حاسد ہیں اور ایک ہیں جو دوسروں کی خوشیوں سے خوش ہوتے ہیں یہی مومن ہیں۔یہی وہ سچے خدا کے بندے ہیں جن کے لئے آسمان سے حقیقت میں دائمی برکتیں اتاری جائیں گی مگر حاسد بھی ہیں۔تو جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا کہ پہلے اپنے نفس کو صاف کرنا چاہئے۔اس ضمن میں جہاں آپ لوگوں سے ملیں گے وہاں نظر بھی رکھیں کہیں کوئی حسد جماعت کو نقصان پہنچانے والا تو نہیں۔ایک نگرانی کی آنکھ کے ساتھ بھی دیکھیں مگر ادب اور احترام کے ساتھ۔شک کی نظر اور ہے اور احتیاط کی نظر اور ہے۔آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر احتیاط کی نظر کوئی نہیں رکھتا تھا اور آپ سے بڑھ کر شک کے خلاف کسی نے تعلیم نہیں دی۔ایک عجیب حسین توازن ہے ان دونوں باتوں کے درمیان تو آپ نے ناحق بدظنیاں تو نہیں کرنی مگر احتیاط کے وہ سارے تقاضے پورے کرنے ہیں جو آنحضرت اللہ نے ہمیں سکھائے اور قرآن کریم کی اس آیت نے ان کی طرف متوجہ کر کے ہمیں ہمیشہ دعا کرتے رہنے کی طرف ہدایت فرمائی۔و مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ اور گھر صاف کرنے کا جہاں تک مضمون ہے ، اپنے دل کو ٹولیں کہ آپ کہیں حاسد تو نہیں۔ہم میں بھی حاسد مزاج کے لوگ ہیں۔وہ جب بھی نظام پر تنقید کرتے ہیں بھلائی کی خاطر نہیں، حسد کی وجہ سے کرتے ہیں۔کوئی اور آگے بڑھ گیا تو ان کو آگ لگ جاتی ہے اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہم نیک نصیحتیں کر رہے ہیں اور لکھتے ہیں کہ دیکھیں برا نہ منانا ہم تو سچی بات کریں گے لیکن اللہ بہتر جانتا ہے اور وہ بھی اگر چاہیں تو پہچان سکتے ہیں اپنی ذات میں ڈوب کر اگر اس کی جڑ تلاش کریں کہ کہاں تھی تو مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ کا مضمون ان کو دکھائی دے گا وہ فطرتاً حاسد ہیں اور ایسا حسد عورتوں میں بدقسمتی سے زیادہ ملتا ہے۔اب MTA کے تعلق میں مجھے پتا چلتا ہے بعض دفعہ کسی کی بچیاں زیادہ آگئیں تو اس پر بھی حسد شروع ہو گئے اور یہ صیحتیں ہوتی ہیں کہ بعض لوگوں کو بار بار زیادہ نہیں دکھانا چاہئے اور اس سے لوگ بور ہوں گے۔اب لوگوں کے لئے نام لئے اور اپنے دل کی تکلیف کا اظہار کر دیا اور پردے کی بات کی تو اس وجہ سے نہیں کہ پردے کی محبت ہے۔اس لئے کہ اگر کسی اور کی بچی سے بے احتیاطی ہو جائے تو یہ اب موقع ہے اس کو زخم پہنچانے کا۔آپ نے اس کو موقع دے دیا دیکھیں ذرا ٹیلی ویژن پہ آئی تھی تو پردے کی احتیاط ہی کوئی نہیں تھی سب دنیا دیکھ رہی تھی۔اب یہ باتیں اگر دل کے درد کے