خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 571 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 571

خطبات طاہر جلد 15 571 خطبہ جمعہ 19 جولائی 1996ء کی بھی توفیق بخشی ہے اور جب اثر ڈالنا تھا تو آسمان سے اثر اترا ہے۔ورنہ میری زبان تو وہی تھی کوئی مزید اضافے تو مجھے مضمون نگاری کے معلوم نہیں ہو سکے۔اسی طرح کہتا رہا مگر جب خدا نے فضل اتارا اور جب پھل پکنے کے وقت آئے ہیں تو اب سنبھالنے کی فکر ہوگئی ہے۔اس لئے سنبھالنے کے تعلق میں میں آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ یہ بھی ایک مہمان نوازی ہے اس کا بھی حق ادا کریں اور اس کے لئے آپ کو تیاری کرنی ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کے صحابہ نے اپنے نفوس کو جھاڑو دے دے کے صاف کیا ہے۔تو آپ بھی نفسوں میں جھاڑو دیں۔اپنی ان کمزوریوں کو دور کریں جو آنے والوں کے اوپر بعض دفعہ بداثرات چھوڑ جاتی ہیں ،ان کے جذبوں کو بجھا دیا کرتی ہیں۔پس اس موقع پر ہم سب ہی مہمان نواز ہیں جو مہمان ہیں وہ بھی مہمان نواز ہیں اور جو میزبان ہیں وہ بھی مہمان نواز ہیں۔کیونکہ بہت سے اجنبی ایسے بھی آئیں گے جن کا جماعت سے تعلق نہیں ہے اور ان کے لئے پہچاننا بھی ضروری نہیں، پوچھنا بھی ضروری نہیں۔وہ سب آپ کے معزز مہمان ہیں۔قَوْم مُنْكَرُونَ بھی ہیں اور ضیوف مکرمین بھی ہیں۔ایسے ضیوف ہیں جو مکرم ہیں یعنی ان کی عزت کی جاتی ہے۔پس ہر ایک پر عزت کی نگاہ ڈالیں ، ہر ایک سے محبت سے پیش آئیں اور اس بڑھتے ہوئے تعلق کے نتیجہ میں ایک اور تقاضا ہے جو طبعا خود بخود پورا ہوگا اور وہ یہ ہے کہ خدا کے فضلوں کے نتیجہ میں حسد بھی بہت بڑھ رہا ہے۔اتنا بڑھ رہا ہے کہ لگتا ہے لوگ اپنے غیظ وغضب کی آگ میں جل کے مر جائیں گے۔چنانچہ قرآن کریم میں اس مضمون کو یوں فرمایا گیا ہے مُوْتُوْا بِغَيْظكُمْ ( آل عمران : 120 ) یہی سلسلہ ہے تو مر جاؤ اپنے غیظ میں لیکن یہ خدا کی طرف سے ہے ارشاد یعنی مومن کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ تم نہیں مرو گے ان کے غیظ سے یہ مریں گے لیکن احتیاطی تدابیر کے متعلق دعائیں سکھا دیں وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (الفلق :6)۔تو اسے از خود جاری ہونے والی ایسی تقدیر نہ سمجھیں جس میں آپ کو زبان ہلانے کی ضرورت نہیں ہے یا دعاؤں کے ذریعے مدد مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔اب یہ دیکھیں کیسا عجیب مضمون ہے شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَاس سے یہ پتا چلتا ہے کہ بعض طبیعتیں حاسد ہوا کرتی ہیں اور ہر حاسد طبیعت ہر وقت حسد نہیں کر رہی ہوتی بعض مواقع ایسے آتے ہیں کہ جب حاسد حسد کے لئے بھڑک اٹھتا ہے اور غیر