خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 569
خطبات طاہر جلد 15 569 خطبہ جمعہ 19 / جولائی 1996ء طرف سے اسے لبیک لبیک کی آوازیں آنی چاہئیں۔اس دفعہ جب امریکہ اور کینیڈا کے نومبائعین سے میری ملاقاتیں ہوئی ہیں وہ جو واقعہ حقیقہ احمدی ہوئے تھے ، بعض تھوڑی دیر میں کچے توڑے گئے تھے ان کی شکل بتا دیتی تھی کہ ان کی کیا کیفیت ہے مگر اس کے باوجود یہ کہنا پڑتا ہے کہ پہلے کسی دورے میں مجھے اتنے مخلص اور واقعۂ صمیم قلب کے ساتھ ہوتے ہوئے احمدی دکھائی نہیں دیئے تھے۔یہ جو عام دور چل پڑا ہے تبلیغ عام یعنی دعوت الی اللہ ، دعوت الی اللہ کے چرچے چل رہے ہیں یہ امریکہ جیسے مادہ پرست ملک میں بھی ایک ہنگامہ برپا کرنے لگے ہیں اور اتنا اثر ہے اس کا لوگوں پر کہ جو بھی ملنے والے آتے رہے ہیں انہوں نے اس بات کا ذکر اگر سب نے نہیں کیا تو اکثر نے کیا کہ ہم تو جب سے آئے ہیں لگتا ہے کہ ہم سب سے زیادہ معزز مہمان ہیں۔ہر احمدی ہم سے محبت کرتا ہے اور حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ کیسے ہوگئی۔پتا چلتا ہے نو مبائع ہیں تو بے اختیار ان کے دل اچھلتے ہیں سینوں سے اور ہمارے دلوں کو لینے کے لئے آگے بڑھتے ہیں استقبال کے لئے۔یہ وہ مضمون ہے جو تربیت کے تعلق میں ہر احمدی کو یادرکھنا چاہئے۔اب آنکھیں بند کر کے اور منہ میں گھنگنیاں ڈال کر بیٹھنے کے وقت نہیں رہے۔اب تو آپ کو کھل کر لبیک کہنا پڑے گا اور آگے بڑھ کر جس اجنبی کو دیکھیں قَوْم مُنْكَرُونَ کا خیال کریں۔ابراہیم علیہ السلام نے بھی تو اجنبی دیکھا تھا اور دیکھیں کیسا ان کی مہمان نوازی کا انتظام فرمایا۔یہ اجنبی لوگ جو آ رہے ہیں ان کو زیادہ دیر اجنبی نہ رہنے دیں تیزی سے اپنے اندر ملائیں تا کہ پھر یہ مہمان نواز بن جائیں اور زیادہ دیر تک یہ مہمان نہ رہیں جلد جلد مہمان نوازوں میں تبدیل ہونے لگیں۔اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو بڑھتے ہوئے تقاضوں کو ہم پورا نہیں کر سکیں گے۔عظیم انقلاب برپا ہو رہا ہے جس کا آج سے دس سال پہلے مثلاً کوئی آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا خود میرے ذہن میں بھی نہیں آسکتا تھا۔ایک دفعہ میں نے بڑی چھلانگ لگائی تھی تو میں نے سوچا تھا کہ ایک سال میں ایک لاکھ احمدی ہو جائے تو کتنا مزہ آئے گا۔مگر اللہ تعالیٰ بعض دفعہ بے اختیار بے سوچی سمجھی سکیم کے الفاظ منہ پر ایسے جاری کر دیتا تھا کہ میں خود بھی حیران تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔لیکن یقین کے ساتھ خدا کی قسمیں کھا کھا کر میں جماعت کو