خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 568
خطبات طاہر جلد 15 568 خطبہ جمعہ 19 جولائی 1996ء کے دیدار کی جو خدا نے توفیق عطا فرمائی ہے اس کا شکر ادا کرنا واجب ہے۔یہ دن ذکر الہی میں گزاریں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر اس کے احسانات کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے وقت کو کاٹیں اور اس جنت سے لطف اندوز ہوں۔جو شکر کی جنت ہے ویسی کوئی جنت نہیں۔شکر ایک ایسی عظیم نعمت ہے کہ شکر گزار بندہ جو ہے وہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے تلے اس دنیا میں ہی جنت پا جاتا ہے اور اس کے عظیم فوائد ہیں جو اپنی ذات میں الگ خطاب کو چاہتے ہیں۔مگر اتنا میں آپ کو کہوں گا کہ خدا کے فضلوں کا شکر کیسے ممکن ہوگا جو بارش کی طرح برس رہے ہوں ، ان گنت ہوں، ناممکن ہے کہ آپ ان کا احاطہ کر سکیں۔تو جہاں تک ہمارا فرض ہے ہمیں چاہئے کہ جس حد تک ممکن ہے خدا کے فضلوں پر نظر کریں اور خدا کے احسان کا بدلہ تو انسان اتار ہی نہیں سکتا۔ناممکن ہے۔ایک ذریعے سے وہ احسان کا بدلہ اتارنے کا احساس اور شعور بیدار کر سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة:4) جتنا خدا عطا فرماتا ہے اتنا ہی وہ آگے بنی نوع انسان پر اور نیک کاموں پر خرچ کرتے چلے جاتے ہیں۔تو احسان کا جو سلسلہ ہے وہ جو آسمان سے اترتا ہے وہ نیچے ہی کی طرف بہتا ہے۔مگر جب خدا کے نام پر خرچ کیا جائے تو یہ ایک احسان کے شعور کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ایک کوشش تو ہے۔انسان یہ تو کہ سکتا ہے کہ اے خدا تیرے احسانات کا بدلہ تو ممکن ہی نہیں ، تجھے ضرورت کوئی نہیں ہے مگر تیرے بندوں کو تو ضرورت ہے۔تیرا دین آج جس حالت میں ہے اس دین کو تو ضرورت ہے تو میں تیرے احسان کا حقیقی شکر ادا کرتے ہوئے ان باتوں پر میں خرچ کرتا ہوں، اپنا وقت بھی زیادہ خرچ کریں۔اور وہ احسانات جو خدا تعالیٰ کے فضل سے تمام دنیا میں بکثرت احمدی ہونے کے ذریعے نازل ہورہے ہیں ان کا حق ادا کرنے کے لئے لازم ہے کہ اپنی تربیت بھی کریں اور دوسروں کی تربیت کے لئے اپنا پہلے سے زیادہ وقت دیں۔ان کو کسی نہ کسی نے تو سنبھالنا ہے۔جو ہزاروں آیا کرتے تھے اب لاکھوں ہیں اور لاکھوں سے بھی اب ملین سے بھی اوپر نکل چکے ہیں۔تو سوال یہ ہے کہ ان کو کیسے سنبھالنا ہے۔ان کو سنبھالنے کے لئے آپ کو اپنے گھروں کی صفائی کرنی ہے، اپنے باطن کی صفائی کرنی ہے، دلوں کی صفائی کرنی ہے اور ہر جگہ ان کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے ہوئے ہاتھ دکھائی دیں۔پھر اگر مہمان نواز تھوڑے بھی رہ جائیں تو مہمان جانتا ہے کہ مجبوری کے قصے ہیں لیکن ہر