خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 567
خطبات طاہر جلد 15 567 خطبہ جمعہ 19 جولائی 1996ء میں ہے تو اس کا اخلاقی فرض ہے کہ لفظوں کے بہانے نہ ڈھونڈے۔جس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے مہمان سے نہیں پوچھا تھا کہ کھانا کھاؤ گے کہ نہیں اس میں ایک نفسیاتی نکتہ ہے۔اگر مہمان سے پوچھا جائے کہ کھانا کھاؤ گے کہ نہیں تو بسا اوقات وہ کہتا ہے نہیں ضرورت نہیں ہے۔جن لوگوں میں جھوٹ کی عادت ہے وہ بعض دفعہ جھوٹ بولتے ہیں کہ جی کھا کے آئے ہیں۔جہاں سچ پر زور دیا جاتا ہے وہ کوئی اور بہانہ چالاکی سے بات کو ٹالتے ہیں اور ہمارے تجربے میں خدا کے فضل سے یہ بات بہت زیادہ دیکھی جاتی ہے یعنی ایک مہمان جو جھوٹ بول نہیں سکتا بوجھ ڈالنا نہیں چاہتا وہ ادھر ادھر کے بہانے بنائے گا اور سیدھابات کا جواب نہیں دیتا۔میزبان کا بھی یہی حال ہے۔یہ یک طرفہ قصہ نہیں ہے۔جب آپ میزبان سے اجازت مانگیں گے تو وہ یہی کہے گا کہ نہیں نہیں ٹھہریں بڑے شوق سے ، آپ کا اپنا گھر ہے اور اگر اسی طرح رہے تو اس کا گھر کہاں رہے گا، بے چارے کا وہ تو آپ کا گھر بن جائے گا۔اس لئے نـحـن الضيوف و انت رب المنزل والا مضمون بھی یادرکھیں۔جب آپ تین دن دیکھیں پورے ہو گئے اور جلسے کی خصوصی ضرورت کے دوران ہم نے چودہ دن تک بھی اس بات کو ممتد کر دیا ہے یعنی جماعتی مہمان نوازی۔اس کے بعد آپ کو پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اور ٹھہروں کہ نہ ٹھہروں۔آپ اجازت چاہیں اور اصرار کریں کہ اب مجھے جانا چاہئے یا میں اپنا انتظام کروں گا۔اگر میزبان بضد ہو اور آپ کو دکھائی دے کہ وہ مصر ہے کہ آپ اپنے قیام کو لمبا کریں تو اس کو تکلیف نہیں ہوگی تو پھر شوق سے آپس کے سلسلے ہیں ، اس میں کوئی حکم نہیں ہے کہ لازماً تین دن کے بعد جدائی اختیار کی جائے یا چودہ دن کے بعد جدائی اختیار کی جائے۔مگر اب نیتوں کا حال ہے اپنی نیتوں کو ٹولا کریں اور نیتوں کو صاف رکھیں گے تو پھر کبھی کوئی خرابی پیدا نہیں ہوگی۔اگر نیتوں میں بھی ٹیڑھا پن آ گیا تو پھر آپ کے نکالے ہوئے سب نتیجے غلط ثابت ہوں گے۔دوسری باتیں جو اور کرنے والی تھیں وقت تو تھوڑا ہے اور جو بھی احادیث کے یا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے میں نے اکٹھے کئے تھے وہ آئندہ ایسے موقعوں پہ کام آتے رہیں گے۔اب میں ایک اور بات کی نصیحت آپ کو کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اس جلسے میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ پہلے سے بھی بڑھ کر غیر معمولی فضلوں کو نازل ہوتا دیکھیں گے اور ان فضلوں