خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 564
خطبات طاہر جلد 15 564 خطبہ جمعہ 19 / جولائی 1996ء وقت اس تفصیل میں جانے کا موقع نہیں۔یہ واقعہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔گھر کہلا بھجوایا مہمان کے لئے کچھ لاؤ۔عرض کیا گیا پانی کے سوا کچھ نہیں۔اس پر حضور نے صحابہ سے فرمایا اس مہمان کے کھانے کا بندو بست کون کرے گا ؟ ایک انصاری نے عرض کیا حضور میں انتظام کرتا ہوں۔اب یہ جو واقعہ ہے میرے اس نتیجہ کی تائید کر رہا ہے۔ایک عام دور تھا تنگی کا اس زمانے کی بات ہو رہی ہے اور صحابہ میں سے ایک شخص نے کہا میں کرتا ہوں اور لوگ سمجھے ہوں گے کہ اس کے پاس بہت زیادہ کھانا ہے اس لئے اس نے کہا لیکن کیسے کیا؟ اس کا حال سنئے۔چنانچہ وہ گھر گیا اپنی بیوی سے کہا آنحضرت ﷺ کے مہمان کی خاطر مدارت کا انتظام کرو۔بیوی نے جواباً کہا آج گھر میں تو صرف بچوں کے لئے کھانا ہے۔نہ میرے لئے نہ تمہارے لئے۔انصاری نے کہا اچھا تو کھانا تیار کرو پھر چراغ جلاؤ اور جب بچوں کے کھانے کا وقت آئے تو ان کو تھپتھپا کر بہلا کر سلا دو۔چنانچہ عورت نے کھانا تیار کیا چراغ جلایا ، بچوں کو بھوکا سلا دیا پھر چراغ درست کرنے کے بہانے اٹھی اور جیسے پلو لگ جاتا ہے اس طرح گویا حادثے کے طور پر چراغ بجھا دیا۔پھر دونوں مہمان کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے اور آوازیں منہ سے ایسے نکالتے رہے جیسے چٹخارے لے رہے ہوں حالانکہ وہ بچوں کا کھانا بھی معلوم ہوتا ہے اتنا نہیں تھا کہ بچوں کا بھی پیٹ بھر سکے کیونکہ بمشکل ایک مہمان کے کام آیا اور مہمان یہ سمجھتارہا کہ میزبان بھی میرے ساتھ کھانا کھا رہے ہوں گے۔منہ سے چٹیاروں کی آوازیں سن رہا تھا۔جب صبح وہ انصاری حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ہنس کے فرمایا تمہاری رات کی تدبیر سے تو اللہ تعالیٰ بھی آسمان پر ہنس پڑا۔ایک روایت یہ بھی میں نے سنی ہے کہ خدا بھی چٹخارے لینے لگا جب تم چٹخارے لے رہے تھے۔یہ پاک باطن ، ایثار پیشہ لوگ کس طرح اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے کیونکہ اللہ کا احسان دیکھیں کہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ حالت کی قربانی کو بھی خدا نے نظر انداز نہیں فرمایا۔جیسے قرآن میں حضرت ابراہیم کی مہمان نوازی کے ذکر کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا اور اس طرح محفوظ کیا کہ جب بھی پڑھیں دل اس طرح پگھل جاتا ہے حضرت ابراہیم کی محبت میں اور اس واقعہ کو آنحضرت ﷺ کی زبان سے محفوظ فرما دیا اور الہاماً آپ کو خبر دی کہ اے محمد ! تیرے غلاموں میں یہ پیدا ہوئے ہیں۔پس