خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 50
خطبات طاہر جلد 15 50 خطبہ جمعہ 19 / جنوری 1996ء والا واقعہ ہے وہ احادیث کے مضمون کی روشنی میں حقیقت میں ممکن ہی نہیں ہے یہ بھی میں آپ کو اچھی طرح سمجھا دوں۔اس لئے یہ قرآن کریم نے جو فرمایا ہے علامتیں جاری فرمائی ہیں وہ دو طرح سے۔ایک علامتیں وہ ہیں جن کا تعلق چاند سے ہے ، ایک علامتیں وہ ہیں جن کا تعلق سورج سے ہے۔رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں عبادتیں دونوں طرح اکٹھی ہو گئی ہیں۔کسی اور مہینے میں اس طرح عبادتیں اکٹھی نہیں ہوئیں جس طرح رمضان کے مہینے میں عبادتیں ہر پہلو سے جڑی ہیں۔یہی سورج کے سال کا بھی تعلق ہے اور چاند کے سال کا بھی تعلق ہے۔جہاں تک قرآن کریم کی عبادات کا تعلق ہے آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ روزانہ نمازیں بھی تو مغرب کے بعد آتی ہیں۔آتی تو ہیں مگر وہ سورج کے حوالے سے آتی ہیں چاند کے حوالے سے نہیں۔پانچ نمازیں جو فرض ہیں اور تہجد کے وقت یہ سارے کے سارے سورج کی علامتوں سے تعلق رکھے ہوئے ہیں۔چاند کے تعلق سے جو عبادت آتی ہے وہ صرف رمضان کی ہے۔یا پھر حج ہے جو چاند سے تعلق رکھتا ہے مگر اس کے علاوہ تمام عبادتیں سورج سے تعلق رکھتی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے سورج کے ساتھ نمازوں کو باندھ کر یہ بات ناممکن بنادی ہے کہ ایک انسان علامتوں کے مطابق ایسی جگہ پانچ نمازیں ادا کر سکے جو شمالی قطب یا جنوبی قطب کے بہت قریب ہو اور یہ ناممکن بنا کر آنحضرت ﷺ کو اس کی اطلاع فرما دی کہ ایک زمانہ آنے والا ہے، دجال کا زمانہ جب کہ دن دنیا میں بعض جگہ روزمرہ کے چوبیس گھنٹے کے دن ہوں گے اکثر جگہ تو یہی ہو گا لیکن بعض ایسی جگہیں بھی ہوں گی جہاں لمبے بھی ہوں کہیں چھ مہینے کا دن بھی ہو گا کہیں سال کا دن بھی ہوگا۔یہ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مطلع فرمایا تا کہ آئندہ زمانے کے انسان کے لئے مشکل نہ رہے۔اس کے ساتھ ہی صحابہ میں سے کسی نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ہے کیا جب ایک سال کا دن آئے گا تو ہم اس ایک سال میں پانچ نمازیں پڑھیں گے۔آپ نے فرمایا بالکل نہیں اندازہ لگا کر اپنے ویسے ہی دن تقسیم کرنا جیسے روزمرہ کے معمول کے دن ہیں اور جب وہ دن گزرے تو اس کے مطابق اپنی پانچ نمازیں پوری کیا کرنا۔صلى الله تو جہاں سورج کی ظاہری علامتیں قاصر رہ جائیں کہ وہ ایک دن کے خدو خال کو نمایاں کر سکیں ، جہاں سورج کی ظاہری علامتیں عاجز آجائیں کہ دن کو چوبیس (24) گھنٹے کے اندر باندھے رکھیں وہاں نمازوں کے احکامات بدل گئے ، وہاں اندازے شروع ہو گئے اور اندازوں کی شریعت نے