خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 551
خطبات طاہر جلد 15 551 خطبہ جمعہ 12 جولائی 1996ء جذبات کا اظہار کرتے تھے اس میں ایک ایسی زندگی تھی کہ وہ حیرت انگیز طور پر دل پر اثر انداز ہو جاتی تھی۔ان کا ناچنا وہ مغربی تہذیب کے ناچنے کی طرح نہیں ہے۔ان کا ناچنا اس کے زیادہ مشابہ ہے جیسا کہ مصلح موعودؓ کی پیش گوئی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا خوشی سے اچھلو اور کو دو۔تو یہ سوچ لینا کہ ناچنا کو دنا ہے ہی حرام بالکل ناجائز بات ہے، یہ بے وقوفی ہے۔ناچنا کودنا کیسا ہے۔کیا دکھاوے کا اور نفسانی خواہشات کے اظہار کا ہے یا بے ساختہ اچھی باتوں پر ایک خوشی کا پھوٹتا ہوا چشمہ ہے۔جیسے چشمہ ابلتا ہے، اس میں زیر و بم پیدا ہوتے ہیں، اونچ نیچ ہوتی ہے۔اسی طرح انسانی بدن بھی بعض دفعہ خوشیوں کے ساتھ ، خوشیوں کے جذبے کے مطابق اچھلتے بھی ہیں ، کودتے بھی ہیں، پیچ وخم بھی کھاتے ہیں مگر اس میں بناوٹ نہیں ہوتی۔یہ بے ساختگی اور بناوٹ سے پاک ناچنا مجھے سب سے زیادہ افریقہ میں دکھائی دیا ہے۔وہاں قطعا کوئی بھی جنسی پہلو اس میں نہیں ہے یعنی احمدیت کی دنیا جو افریقہ میں میں نے دیکھی ہے وہ اپنے اس طبعی شوق اور جذبے کو جو ان کی فطرت میں ودیعت ہے کہ آواز کے ساتھ بدن میں ضرور حرکت پیدا ہو اس عمدگی کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ اس میں کوئی گندا پہلو نہیں مگر حسن کا پہلو بہت نمایاں ہو کے ابھرتا ہے۔مثلاً خوش آمدید میں آپ بعض دفعہ ہاتھ اونچے کر دیتے ہیں مگر رومال کو لہراتے وقت بدن بھی ساتھ لہراتے جائیں اسی طرح اور پتا بھی نہ ہو لہرانے والے کو کہ میں کیا کر رہا ہوں۔یہ نظارے جو ہیں ساتھ اس کے نغمے الاپے جارہے ہوں اور ان کی لے کے مطابق رومال بھی حرکت کریں ، بدن بھی حرکت کریں اب کوئی اس کو نا جائز نہیں کہہ سکتا کیونکہ یہ ایک طبعی فطرت کے پاکیزہ اظہار ہیں اور اگر یہ ان کو وہ نہ کریں تو پھر دوسرا گندرہ جائے گا باقی۔افریقن میوزک کا اور بدن کی حرکت کا ایسا عاشق ہے اور اس طرح بے ساختہ اس کی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ اسے دبایا جا ہی نہیں سکتا۔صرف یہ سوال ہے کہ اس رستے پر چلایا جائے یا اس رستے پر چلایا جائے۔تو جو دین کا رستہ ہے اس پر چلیں اور وہاں بھی جس حد تک ممکن ہے کچھ ان کی تادیب ہو ، کچھ ان کو ادب سکھایا جائے کہ اتنا زیادہ بھی نہ کیا کرو۔عورتیں اگر کرتی ہیں تو ان کو کہا جائے کہ ایک حد ہے اس سے زیادہ نہ نکلو۔مگر یہ کہ اس جذبے کو ختم کر دیا جائے یہ ممکن نہیں ہے۔کوئی دنیا کی طاقت یہ نہیں کر سکتی۔یہ بعض قوموں کے فطری جذبے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمار کھے ہیں۔ان کو ان سے کھینچ کر نکالا نہیں جا سکتا۔پس ان کا اظہار کہیں دکھائی نہیں دیا یعنی یوگنڈا