خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 550 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 550

خطبات طاہر جلد 15 550 خطبہ جمعہ 12 جولائی 1996ء کے کہ اصل مضمون اردو یا انگریزی میں ہو اور ترجمے دوسری زبانوں میں ہوں۔تو ان زبانوں میں اگر آپ پروگرام بنا ئیں گے نہیں تو ہم کیسے آپ کو دکھا سکیں گے۔اب یوگنڈا کی جوز با نیں مشہور ہیں ، جو زیادہ کثرت کے ساتھ سنی اور سمجھی جاتی ہیں، بولی جاتی ہیں یا لکھی جاتی ہیں ان زبانوں میں ہمیں پروگرام ملنے چاہئیں لیکن ابھی تک یورپ کی طرف سے بھی پورے پروگرام نہیں مل رہے۔سب سے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ اگر کام ہوا ہے تو جرمنی میں ہوا ہے یا پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ناروے کو تو فیق ملی ہے کہ وہ اس معاملے میں کافی سنجیدگی سے ، دیانتداری سے پروگرام بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔فرانسیسی زبان میں ہمارے نوید مارٹی صاحب کو توفیق ملی ہے اور اب ہمارے جہانگیر صاحب جو مبلغ سلسلہ ہیں وہ بھی اس کام کو بڑھا رہے ہیں لیکن اکثر زبانوں میں ایک خلاء ہے، ایک تشنگی کا احساس ہے۔پس نہ صرف یہ کہ ہمیں ایسی زبانوں میں پروگرام دیں جو انٹر نیشنلی (Internationally) سمجھی جانے والی زبانیں ہیں جہاں زیادہ تر احمدی ہیں مثلاً اُردو اور انگریزی میں اور اپنے ملک ، اپنے ملک کی تاریخ ، اپنے ملک کے ادب، اپنے ملک کے دینی حالات، ملک کی دینی جماعتیں ، ملک کے علماء کا حال اور دینی تعلقات کے معاملات، اخلاقی حالات، یہ سارے مضامین ہیں جو بہت وسعت رکھتے ہیں۔پھر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے انڈسٹری ، اقتصادیات ، ان کی اخلاقی حالتیں ، بین الاقوامی تجارتیں اور یہ سارے امور ہیں ان کے ذریعے آپ اپنے ملک کو باہر روشناس کرائیں گے مگر باہر کی دنیا کا علم آپ کو بھی تو پہنچنا چاہئے۔جب تک آپ اپنی زبانوں میں باہر کی دنیا کا تعارف نہیں بنائیں گے اس وقت تک یوگنڈا میں براہ راست MTA سے وہ محبت پیدا نہیں ہوسکتی جو اپنی زبان میں سن کر پیدا ہوتی ہے۔اسی طرح سواحیلی ہے اس کا بہت وسیع اثر ہے اور سواحیلی میں ہمیں بکثرت پروگرام چاہئیں۔اب وہاں تنزانیہ نے اللہ کے فضل سے اچھادلچسپ پروگرام بنایا تھا مگر بالکل چھوٹا سا اور نہ کوئی احمدی مسجد دکھائی، نہ مبلغ کے آنے کا ذکر کیا، نہ وہ مراکز جہاں جماعت پھیلی ہے ، نہ وہاں کے مبلغین اور ان کی خدمت کا کوئی تذکرہ تو ملکی لحاظ سے تھوڑی سی چیزیں دکھا دینا کافی نہیں ہے۔مراد یہ تھی کہ وسیع تر تعارف ہو اور ہو دلچسپ طریق پر۔اب سیرالیون کے جو پروگرام ملے یا دوسری جگہوں کے ان میں وہ بات نہیں ہے جو میں نے خود جا کر وہاں دیکھی تھی۔وہاں جب میں گیا ہوں تو ان کے بچے ، وہاں کے بڑے از خود وارفتگی کے ساتھ جو اپنے دل کی خوشیوں کا اظہار ، اپنے