خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 549
خطبات طاہر جلد 15 549 خطبہ جمعہ 12 جولائی 1996ء یہ علوم جو ہیں یہ بے فائدہ بہر حال نہیں ہیں کیونکہ ان میں بہت سے حکمت کے موتی بکھرے ہوئے آپ کو ملیں گے۔ہر قوم کے لکھنے والے نے حکمت کی باتیں کی ہیں ورنہ اسے وہ مرتبہ حاصل ہی نہ ہوتا جو اسے ادب کی دنیا میں حاصل ہوا۔تو ان کو ابھارا جائے ،ان کی لغویات کو بے شک دبی زبان سے ذکر کر کے چھوڑ دیں مگر جو اعلی پائے کی باتیں مختلف قوموں کے شعراء اور ادیبوں نے لکھی ہیں اور کہی ہیں ان کا تعارف تو کروائیے۔اپنے ملک کے لطائف بتا ئیں اور کھیلوں کے ساتھ وہ لطائف کی مجلس بھی لگ سکتی ہے۔ہر ملک کا اپنا ذوق ہے، بعض ان کے لطائف پر آپ کو شاید ہنسی نہ بھی آئے مگر ان کو تو آئے گی بہر حال اور ہمارے علم میں تو اضافہ ہوگا کہ ان لوگوں کا ذوق کیا ہے۔کس قسم کی چیزیں پسند کرتے ہیں۔پھر قومی تعارف میں یہ ضروری ہے کہ یہ بھی بتایا جائے کون سی چیزیں ناپسند کرتے ہیں اور یہ ہمارے مبلغین کے لئے اور ویسے تبلیغ کرنے والوں کے لئے بڑی ضروری بات ہے۔بعض دفعہ ایک بات کا کچھ اور معنیٰ لے لیا جاتا ہے۔ایک ملک کے ایک دوست نے مجھے ایک دفعہ بتایا کہ پاکستان میں یہ رواج ہے اور ہندوستان میں بھی کہ جب ملتے ہیں تو پیار سے پیچھے تھپکی بھی دیتے ہیں۔اول تو چھوٹا اگر بڑے کو دے تو یہ ایک بے وقوفی کی بات ہے لیکن یہاں بغیر دیکھے یہی رواج چلتا ہے اور دوسرا یہ کہ بعض ملکوں میں اس کو برا سمجھا جاتا ہے، اس کو ایک گندی علامت سمجھا جاتا ہے اور وہاں اگر دیں تو وہ بھڑک اٹھتے ہیں لوگ۔اب اس بے چارے کو کیا پتا کہ میں نے تو بہت پاکیزہ محبت کا اظہار کیا تھا اس نے کیا سمجھا ہے۔تو اس لئے ہر قوم کے رسم ورواج کا علم بھی ضروری ہے اور ایک تبلیغ کرنے والی جماعت کے لئے یہ علم کا انتشار کل عالم میں اس طرح ہونا چاہئے کہ ہمیں ہر قوم کے مزاج ، ان کی عادات، ان کی پسند، ان کی ناپسند کا علم ہوتا کہ ہم عالمی حیثیت سے ایک داعی الی اللہ کے طور پر ابھر سکیں۔اس لئے یہ باتیں بھی بیان کرنی ضروری ہیں۔پھر جب آپ شعراء کا ذکر کرتے ہیں تو ضروری تو نہیں کہ محض تقریر میں ہی ان کے شعراء کی بات ہو۔بچے اچانک وہ نغمہ شروع کر دیں، کہیں بڑے اس آواز کو اٹھا لیں اور پھر آپ اس کے ترجمے بیان کریں۔اور اس کے برعکس اپنی زبانوں میں بھی پروگرام بنا ئیں۔یہ پہلو جو ہے اب تک بالکل تشنہ پڑا ہے اب ہم جب کہتے ہیں کہ ہم افریقہ کے لئے دو گھنٹے، کم از کم دو گھنٹے اس طرح ریز رو کرنا چاہتے ہیں کہ افریقن زبانوں ہی کی باتیں ہوں اور غیروں کے لئے ان کے ترجمے پیش ہوں۔بجائے اس