خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 548 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 548

خطبات طاہر جلد 15 548 خطبہ جمعہ 12 جولائی 1996ء وہ علوم جو دین کے بھی ہیں اور دنیا کے بھی ہیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے جو علم کی تعریف فرمائی کہ العلم علمان علم الادیان و علم الابدان - موضوعات الصغاني،رقم الحديث (20) میرے ذہن میں جو MTA کا تصور ہے وہ بعینہ اس تعریف کے مطابق ہے کہ علم الادیان بھی ہم لوگوں تک پہنچائیں اور علم الا بد ان بھی پہنچائیں۔علم الا بد ان کا جو یہ ترجمہ کیا جاتا ہے کہ صحت کا علم ، یہ غلط تو نہیں مگر یہی ترجمہ نہیں ہے۔ابدان سے مراد سائنس کا علم ہے Matter کا علم اور دوہی چیزیں ہیں یا خدا نے روحانی دینی کائنات پیدا فرمائی یا مادی جسمانی کائنات پیدا فرمائی۔تو آنحضور نے فرمایا کہ باقی جو کہانیاں اور اس قسم کے شعر و شاعری کے قصے ہیں یہ تو ایک غیر حقیقی قسم کا علم ہے۔اصل علم وہ ہے جو سچا ہو۔علم الادیان بھی سچا علم ہے اور علم الا بدان بھی سچا علم ہے۔جہاں مادے کی حرکتیں اور اس کی صفات ، اس کے آپس کے تعلقات، ایک دوسرے سے مل کر وہ کیا نئی صفات پیدا کرتے ہیں، جہاں یہ مضمون چلے، یہ علم الا بدان ہے اور اس پہلو سے سائنس کی ترقی مسلمانوں سے بطور خاص وابستہ ہونی چاہئے کیونکہ کوئی دنیا کا نبی ایسا نہیں جس نے اپنی قوم کو علم کے متعلق ایسی اعلیٰ صفت، ایسی اعلیٰ تعریف میں متوجہ فرمایا ہو۔اس سے بہتر تعریف علم کی ممکن نہیں اور متوجہ فرمایا کہ یہ تمہاری زندگی کے مشاغل ہیں۔تمہیں یا علم ادیان حاصل کرنا ہے یا علم ابدان حاصل کرنا ہے۔تو MTA کا کام بھی یہی ہے کہ اپنے ملک کے علم الا بدان بھی بتائے۔وہاں کس قسم کے بڑے بڑے سائنس دان پیدا ہوئے ، اگر ہوئے اور ان کے جو اقتصادی حالات ، ان کے معاشرتی حالات،ان کے ادب کی تاریخ یہ اگر چہ بعینہ علم الابدان تو نہیں مگر اس مضمون کو جب وسعت دیں تو علم کے کسی نہ کسی دائرے میں تو بہر حال آتے ہیں۔تو علوم میں دلچسپی کے لئے ان کو داخل کرنا ضروری صلى الله ہے۔اگر یہ نہ ہوتا تو آنحضور ﷺ خود شعروں کو نہ سنتے۔حالانکہ قرآن کریم نے شاعر کے متعلق جو فرمایا ہے اس کے باوجود آنحضور علے اشعار کو سنتے بھی تھے اور صحابہ کو بھی بکثرت اشعار یاد تھے۔پس اگر چہ براہ راست علم الا بدان تو نہیں ہے یہ مگر علم کی وسیع تر تعریف میں یہ باتیں بھی داخل ہیں۔اس لئے میں یہ بھی نصیحت کرتا رہا ہوں کہ اپنے ملک کے سائنس دانوں ہی کا نہیں بلکہ ادیبوں کا تعارف بھی کروائیے اور شعراء کا تعارف بھی کروائیے۔ڈرامہ نگاروں کا تعارف بھی کروائیے۔وہ کہانیاں جو بہت شہرت پا گئیں ان کا تعارف بھی کروائیے۔صلى الله