خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 49
خطبات طاہر جلد 15 49 99 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 1996ء چسپاں ہوں گے اور ان کے درمیان کوئی بھی اختلاف نہیں ہوگا۔سائنسی فتویٰ بعینہ وہی ہوگا جن شرائط کے ساتھ میں بیان کر رہا ہوں جونگی آنکھ کے دیکھنے کا فتوی ہے۔تو اس لئے یہ دور ایسا ہے کہ اس میں خدا تعالیٰ کے قائم کردہ قوانین کو خدا نے خود ہی بندوں کے لئے مسخر فرما رکھا ہے اور نئی نئی باتیں جو ہمارے علم میں آ رہی ہیں ان کو خدمت دین میں استعمال کرنا چاہئے۔پس جماعت احمدیہ کی طرف سے جو کیلنڈر شائع ہوتے ہیں اور ابھی بھی یہاں ہو چکے ہیں یا ہر ملک میں ہوتے ہیں ان کی گواہی قطعی ہے کیونکہ ہم کبھی بھی ایسی گواہی کو قبول نہیں کرتے جہاں سنگی آنکھ سے چاند کا دیکھناممکن نہ ہو۔جہاں یقینی ہو کہ اگر موسم صاف ہے تو چاند ضرور دکھائی دے گا وہاں قبول کیا جاتا ہے اور مہینوں کے جو دوسرے دن ہیں یا اس کا شروع اور آغاز ، دوسرے مہینوں سے تعلقات وہ ہمیشہ ٹھیک بیٹھتے ہیں۔اگر غلطی ہو تو بعض دفعہ عجیب سی غلطی بن جاتی ہے۔بعض مہینے اس کے اٹھائیس دن کے رہ جاتے ہیں اور اٹھائیس دن کا مہینہ ہو ہی نہیں سکتا چاند کا۔یہ کوئی ضروری تو نہیں ہے جو اٹھائیس دن کا آئے۔چاند کا تو ہر مہینہ یا انتیس کا ہو گا یا تھیں کا ہوگا۔پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کا جو فیصلہ ہے وہ قطعی اور درست ہے اور قرآن کے عین مطابق ہے۔پس وہ دن اب طلوع ہونے والا ہے یعنی رمضان کا دن جو انشاء اللہ تعالیٰ اتوار کی شام کو طلوع ہوگا اور پیر کا پہلا روزہ ہوگا۔اب ایک بحث یہ ہے کہ رمضان کو سورج سے کیوں نہیں باندھا؟ اس میں بہت سی حکمتیں ہیں مثلاً ہر ملک کا موسم الگ الگ ہے۔بعض ممالک ایسے ہیں جن میں سردیوں میں دن بالکل چھوٹے رہ جاتے ہیں اور گرمیوں میں بے انتہا لمبے ہو جاتے ہیں۔بعض ایسے ہیں جہاں شدید گرمی ہے اور دن برابر ہیں۔بعض ایسے ہیں جہاں شدید گرمی ہے اور پھر دن برابر نہیں ہیں۔تو اگر ایک ہی سورج کے حساب سے مہینہ مقرر کر دیا جاتا تو وہ مہینہ ہر جگہ ایک ہی طرح ایک ہی موسم میں رہتا، کبھی اس میں تبدیلی نہ ہوتی۔ناروے کے لوگوں کے لئے مثلاً اگر وہ مہینہ سردیوں میں ہوتا تو ناروے کے لوگوں کے لئے ادھر روزہ رکھا ادھر کھولنے کا وقت آگیا اور جو جنوبی قطب کے پاس رہتے ہیں ان کا روزہ ختم ہی نہ ہوتا۔جو زیادہ قریب ہیں وہ تو سال بھر روزہ چلتا لیکن جو ذرا مناسب فاصلے پر ہیں ان کا بھی ہوسکتا ہے 23 گھنٹے کا روزہ ہو۔ایک گھنٹے کے اندر نمازیں بھی پڑھنی ہیں، تہجدیں بھی پڑھنی ہیں ، کھانا بھی کھانا ہے اور پھر 23 گھنٹے کے روزے کے لئے تیاری کرنی ہے۔اول تو جو 23 گھنٹے