خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 538 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 538

خطبات طاہر جلد 15 538 خطبہ جمعہ 12 جولائی 1996ء سلوک کریں کیونکہ انسان جو اپنے بھائیوں سے عفو اور بخشش کا سلوک کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بھی عفو اور بخشش کا سلوک فرماتا ہے۔پس عفو اپنی ذات میں ایک بہت اعلیٰ خلق ہے اور بخشش بھی اپنی ذات میں ایک بہت اعلیٰ خلق ہے لیکن اگر خدا کے حوالے سے کئے جائیں تو یہ دوہرا فائدہ ہے دنیا کا بھی اور دین کا بھی کیونکہ جو اللہ کی خاطر عفو کیا جائے ، اللہ کی خاطر مغفرت کی جائے اس میں اللہ تعالیٰ اپنے اوپر یہ حق بنا لیتا ہے کہ ایسے بندے سے میں بھی عفو کا سلوک فرماؤں اور مغفرت کا سلوک فرماؤں۔تو بہت ہی اچھا موقع ہے کہ بظاہر ایک تاریکی سے نور نکال لیا جائے اور یہ جو Blessing in Disguise کہا جاتا ہے انگریزی میں ، دنیا میں تو صحیح معنوں میں اس محاورے کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں مگر دین میں تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بعینہ اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ہر بدی سے جو بدی دکھائی دیتی ہے اللہ تعالیٰ نے بھلائی نکالنے کے پہلو خود ہمیں سمجھا دیئے ہیں اور ان کی ذمہ داری خود ادا فرماتا ہے۔اس مختصر تمہید کے بعد اب میں جو جلسہ کینیڈا اور امریکہ ہے اس کے حوالے سے ایک دو باتیں اور کہوں گا اور پھر ایک ایسی بنیادی ضرورت کی طرف آپ کی توجہ مبذول کراؤں گا جس کے متعلق پہلے بھی بارہا کہہ چکا ہوں مگر ابھی تک میرے اس منشاء کو پوری طرح جماعتیں سمجھ نہیں سکیں اس لئے بعض دفعہ تکرار کرنی پڑتی ہے۔ایک بات آمنے سامنے بھی سمجھائی جائے بٹھا کر تو تب بھی بسا اوقات وہ پوری طرح سمجھ نہیں آتی۔انسان سمجھتا ہے میں نے ابلاغ کا حق ادا کر دیا مگر سننے والا اس مفہوم کو صحیح سمجھتا نہیں۔اس لئے اس پر عمل درآمد کے وقت نقص رہ جاتے ہیں اور یہ جو نقائص ہیں یہ MTA سے تعلق رکھنے والے نقائص ہیں جن کی طرف میں آپ کو متوجہ کروں گا۔کینیڈا اور امریکہ کے جلسوں میں جو خصوصیت سے میں نے بات محسوس کی بہت سے لوگ جو بہت دور سے تشریف لائے تھے ان کو ملاقات کا موقع نہیں مل سکا یعنی ذاتی ملاقات کا موقع نہیں مل سکا اور اس کے لئے دونوں ممالک نے کچھ قوانین اپنے لئے بنا لیے تھے کہ اس دفعہ ان کو موقع دیا جائے جن کو کبھی بھی ملاقات کا موقع نہیں ملا اور اس پہلو سے اگر چہ ہزار ہا ملاقاتیں ہوئیں لیکن جو خاص طور پر دور سے ملاقات کی نیت سے آئے تھے اور اپنا حق کسی پہلو سے بالا سمجھتے تھے ان کو اس ملاقات نہ ہونے کے نتیجہ میں ٹھوکر لگی ، صدمہ پہنچا۔بعض نے اظہار کیا، بعض کے اظہار ان کے چہروں پر لکھے ہوئے ، رستہ چلتے دکھائی دے رہے تھے مگر تکلیف کا بہر حال ایک موقع تھا۔تو میں ان سب