خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 535 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 535

خطبات طاہر جلد 15 535 خطبہ جمعہ 5 جولائی 1996ء بدن پر ان کی جلدوں پر جھر جھریاں طاری ہو جاتی ہیں اور واقعہ جب کسی سے محبت کا جذ بہ بھڑ کے تو کئی دفعہ انسان کانپ جاتا ہے اور ایک جھر جھری سی طاری ہو جاتی ہے۔پس یہ وہ محبت کا انداز ہے جو آنحضرت ﷺ نے ہمیں سکھایا۔اس محبت کے بغیر ہماری زندگیاں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ہم حقیقت میں اللہ کی محبت کے دعوے تو کریں گے مگر محبت کی حقیقت کو نہیں پاسکیں گے۔حضرت مسیح موعود اس محبت کے اظہار کو جس طرح ، جس جس طریق سے بیان فرماتے ہیں اس کی کوئی مثال اس زمانے میں ہمیں دکھائی نہیں دیتی۔در شمشین کے حوالے سے جو میں نے مضمون شروع کیا تھا انشاء اللہ میں آئندہ کسی وقت اس کو آگے بڑھاؤں گا۔چونکہ آج ہمیں باہر بھی جانا ہے اور وقت تھوڑا رہ گیا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود کے حوالے ہی سے ایک اور نظم سے میں چند شعر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔تیرے کوچے میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں اللہ تعالیٰ سے پوچھتے ہیں کہ بتا میں کن رستوں سے تیرے کوچے تک آؤں۔کون سی خدمت ہے جو مقبول ہوگی۔آنحضرت ﷺ کے دل سے یہی سوال اٹھتے رہے جن کے جواب قرآن الله کریم میں نازل ہوتے رہے۔حضرت ابراہیم کے متعلق بھی آتا ہے۔آپ نے عرض کیا وَارِنَا مَنَاسِكَنَا (البقرة: 130) اے اللہ ہم چاہتے ہیں کہ تیری راہ میں وہ قربانیاں پیش کریں جو تجھے پسند ہیں مگر جانتے نہیں کہ وہ کیا ہیں۔اس لئے تو ہمیں دکھا کہ یہ بھی قربانی کی راہ ہے جو مجھے پسند ہے۔وہ بھی قربانی کی راہ ہے جو مجھے پسند ہے۔تو راہیں کھول اور پھر ان راہوں میں آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرما۔یہی جذبہ ہے جو حضرت مسیح موعود کے دل سے اٹھتا ہے: تیرے کوچے میں کن راہوں سے آؤں وہ خدمت کیا ہے جس سے تجھ کو پاؤں محبت ہے کہ جس سے کھینچا جاؤں خدائی ہے خودی جس سے جلاؤں