خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 536
خطبات طاہر جلد 15 536 خطبہ جمعہ 5 جولائی 1996ء ایک ہی رستہ دکھائی دیا ہے کہ محبت کروں اور خدا کے نام سے اپنی خودی کو جلا دوں۔تو جو بے نیازی کا مضمون ہے وہ بھی محبت کے ذریعے نصیب ہوسکتا ہے ورنہ ناممکن ہے کہ انسان دنیا سے بے نیاز ہو جائے۔اب یہ نکتہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں سمجھایا کہ آنحضرت ﷺ جب فرماتے ہیں کہ بے نیازی کرو تو کس چیز سے، جب تک کسی اور سے اس سے بڑھ کر محبت نہ ہو، بے نیازی نہیں ہوسکتی۔یہ قانون قدرت ہے جس پر لازما عمل درآمد ہوگا۔اس میں کوئی تبدیلی نہیں۔کتنا ہی کسی سے پیار ہوا اگر وہ اس کی گستاخی کرتا ہے جس سے زیادہ پیار ہے ، اس کے رستے میں حائل ہوتا ہے جس سے آپ زیادہ محبت کرتے ہیں تو اچانک وہ بالکل بے حیثیت اور بے حقیقت ہو کے دکھائی دے گا۔اس کی ساری محبت زائل ہو جائے گی۔پس فرمایا: خدائی ہے خودی جس سے جلاؤں خدا کو اپنے اوپر طاری کر دوں اور اپنی نفسانیت کے ہر پہلو کو خاکستر دوں۔محبت چیز کیا کس کو بتاؤں وفا کیا راز ہے کس کو سناؤں میں اس آندھی کو اب کیونکر چھپاؤں یہی بہتر کہ خاک اپنی اڑاؤں ( در مین اردو : 54) فرمایا میرے دل میں تو آندھی چل پڑی ہے اللہ کی محبت کی۔کیسے چھپاؤں؟۔میرا جسم خاک ہو کے اڑ جائے اس آندھی سے تو یہ بھی مجھے منظور ہے۔مگر کاش دنیا کو پتا چلے کہ محبت الہی ہوتی کیا ہے۔پس محبت کی راہیں سیکھنی ہیں تو آنحضرت ﷺ سے ہی سیکھی جائیں گی اور اس دور میں اس صل الله محبت کے عنوان کو دوبارہ جس نے زندہ کیا ہے وہ حضرت اقدس مسیح موعود ہیں۔پس آنحضور ﷺ کو دیکھنا ہے تو حضرت مسیح موعود کی آنکھ سے دیکھیں اور خدا کو دیکھنا ہے تو محمد ﷺ کی آنکھ سے دیکھیں۔یہی ایک رستہ ہے جو محبت الہی پیدا کرنے والا ہے،اس کے علاوہ سب قصے اور کہانیاں ہیں۔