خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 534 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 534

خطبات طاہر جلد 15 534 خطبہ جمعہ 5 جولائی 1996ء مضمون کو خوب کھول کر الگ الگ بیان فرما دیا ہے۔اس میں کوئی جذباتیت نہیں ہے ، گہرے حقائق ہیں جو قرآن اور احادیث ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔پھر آنحضرت ﷺ کے اظہار محبت کے متعلق کہ کیسے آپ خدا کی محبت اور پیار اور جلال کے احساس سے لرزاں ہو جایا کرتے تھے ایک حدیث ہے۔یہ مسند احمد بن جنبل سے لی گئی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے یہ آیت پڑھی وَالسَّمُوتُ مَطوِيتُ بِيَمِينِهِ سُبْحَنَهُ وَتَعَلَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (الزمر:68) کہ آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لیٹے ہوئے ہیں یا لیٹے جائیں گے۔پاک ہے وہ ان باتوں سے جو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر عرض کرتے ہیں کہ ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی میں اللہ نے یہ آیت پڑھی تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں بڑی طاقتوں والا اور نقصان کی تلافی کرنے والا ہوں میرے لئے ہی بڑائی ہے۔میں بادشاہ ہوں۔میں ایک بلندشان والا بادشاہ ہوں۔تمام بادشاہوں میں سب سے بڑھ کر اور صلى الله میرے لئے ہی بڑائی ہے۔اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنی ذات کی مجد اور بزرگی بیان کرتا ہے۔آنحضرت مو خدا کے مجد اور بزرگی کے اس بیان کو اس طرح دہرانے لگے اور ایسے وجد میں آئے کہ راوی بیان کرتا ہے کہ سارا منبر لرز نے لگا اور اس قوت اور شان کے ساتھ اس گہرے جذ بہ عشق کے ساتھ آپ اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے لگے اور یہ فقرے بار بار دہرانے لگے کہ ہمیں ڈر تھا کہ منبر اس لرزش سے ٹوٹ کر کہیں آپ کو بھی ساتھ نہ لے گرے۔یہ وہ کیفیت تھی جو بنائے نہیں بنا کرتی ، ایک بے اختیار کیفیت ہے۔پس اس پہلو سے اگر ہم اپنی محبت کو جانچنا چاہیں تو دیکھنا یہ ہے کہ کیا اللہ کے ذکر پر ہمارے دل پر ایک زلزلہ طاری ہوتا ہے کہ نہیں۔کیا ہمارے بدن اور روئیں روئیں میں خدا کا پیار دوڑنے لگتا ہے یا نہیں اور اگر ایسا نہیں ہے اور وہ ذکر محض ایک ذکر ہے جو زبان پر جاری ہوکر دوسرے کانوں تک تو پہنچتا ہے مگر دل تک نہیں پہنچتا تو پھر یہ محبت نہیں ہے۔اس کا جو چاہیں نام رکھ لیں یہ محبت نہیں۔خدا کا نام تو اتنا پیارا نام ہے کہ جب وہ محبت کرنے والے کے دل پر پڑتا ہے تو اس سے بڑی میوزک اور کوئی نہیں۔اس سے اعلیٰ درجے کا پر سرور نغمہ ممکن نہیں ہے۔ذکر الہی اپنی ذات میں ایک ایسا نغمہ ہے جس کی کوئی مثال دنیا کے نغموں میں نہیں ملتی اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم اس ذکر الہی کے متعلق فرماتا ہے تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ (الزمر: 24) یہ ذکر تو ایک ایسی شان رکھتا ہے کہ خدا سے محبت کرنے والوں کے