خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 525
خطبات طاہر جلد 15 525 خطبہ جمعہ 5 جولائی 1996ء انداز انکساری ہے جو آپ ﷺ کو خدا سے اور بھی زیادہ قریب کر دیتا ہے اور آپ کی محبت کا ایک ذریعہ ہے۔ہم دنیا کے تجربہ میں یہ دیکھتے ہیں کہ بسا اوقات شعری ذوق سے انسان پہچانا جاتا ہے۔اگر کسی سے پیار ہو تو جس انداز کا پیار ہو اسی انداز کے شعر پسند آتے ہیں اور اگر ایک انسان خشک مزاج کا ہے تو اسے خشک مزاج کے گرامر کے لحاظ سے اعلیٰ درجے کے بنے ہوئے شعر اچھے لگتے ہیں۔غرضیکہ ہر شخص کا مزاج اس کے شعروں کے انتخاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔اسی پہلو سے ایک شاعر نے کہا ہے کہ کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ؟ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے میرا حال تو نہیں کھلنا تھا مگر میرا شعروں کا انتخاب ایسا تھا جس نے دل کی بات کہہ دی۔تو آئیے اب میں آنحضرت ﷺ کی پسند کا (دیوان غالب صفحہ 232) شعر آپ کو سناتا ہوں تا کہ آپ کے دل کا معاملہ بھی ہم پر کھلے کیونکہ یہ معاملہ کھلے بغیر ہمارے دلوں کو حقیقت میں اللہ کی محبت نصیب نہیں ہو سکتی۔حضرت ابوھریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے لبید شاعر کے متعلق یہ فرمایا کہ بہت سے شاعر بہت کچھ کہتے ہیں مگر جو بات لبید نے کہہ دی کوئی اور شاعر ویسی بات نہیں کہہ سکا۔لبید کے شعروں کو ایسا خراج تحسین بلکہ دنیا کے کسی شاعر کے شعروں کو ایسا خراج تحسین کبھی نہیں نصیب ہوا جیسے آنحضرت ﷺ نے لبید کو دیا۔فرماتے ہیں ، وہ شعر کیا ہے۔الا كـل شـيــي ء مــاخـلا الله باطل (صحيح بخارى، كتب مناقب الأنصار، باب أيام الجاهلية) سنو ہر چیز خدا کے سوا باطل ہے۔اب یہ شعر آنحضرت ﷺ کے دل میں اس لئے جاگزین ہوا ہے کہ دل کی بات تھی۔جو بات دل میں ہو اور کوئی دوسرا کہہ دے تو ایسے دل میں جا کے ڈوبتی اور ٹک جاتی ہے کہ اپنی محسوس ہوتی ہے۔جیسا کہ غالب کہتا ہے۔دیکھنا تقریر کی لذت کہ، جو اس نے کہا