خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 517
خطبات طاہر جلد 15 517 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء نے زور دیا ہے وہ خالصہ اس خاطر دیا ہے کہ سب قومیں خدا کی مہمان بن کر ہمارے اندر داخل ہورہی ہیں۔ان کی کمزوریوں پر ہمیں نظر رکھنا ہے۔ان کے رجز کو ہر طرح پاک کرنا ہے اور اپنی کمزوریوں کو ان سے دور رکھنا ہے اور پوری کوشش کرنی ہے کہ ہماری کمزوریاں ان میں منتقل نہ ہو جائیں ورنہ آئندہ قوموں کی خرابیوں کے ہم ذمہ دار قرار دیئے جائیں گے۔پس جہاں خدا تعالیٰ انعامات کی کثرت سے بارش فرمارہا ہے۔نئ نئی قومیں لکھوکھا کی تعداد میں احمدیت میں داخل ہورہی ہیں۔وہاں ہمارے ثواب کے مواقع بھی بڑھ رہے ہیں اور ہماری سزا کے احتمالات بھی بڑھ رہے ہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے امارت کے تعلق میں متنبہ فرمایا ہے کہ ہرا میر اپنے ماتحت جو بھی ہیں ان کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔اگر وہ ان کے اوپر شفقت کا حق ادا کرے گا تو اس کی جزا اس کو نصیب ہوگی اور اگر وہ اس حق سے غفلت کرے گا تو خدا کے حضور وہ اس سے پوچھا جائے گا۔مگر ایک اور دوسرے موقع پر آپ نے اس مضمون کے اس پہلو کو بھی خوب کھول دیا کہ تم سے جو پرسش ہوگی اس میں تمہاری بے اختیار کمزوریوں کو خدا تعالیٰ نظر انداز فرما دے گا۔اس لئے ایسے ذمہ دار کاموں کو قبول کرنے سے احتراز نہ کرنا اس ڈر سے کہ تم ہو سکتا ہے اس کے فرائض کا حق ادا نہ کر سکو۔آپ نے فرمایا کہ اسلام میں امارت کا نظام اس طرح قائم ہوا ہے کہ جو شخص بھی پوری دیانتداری کے ساتھ جاری کرنے کی کوشش کرے گا اس کا دوہرا ثواب خدا اس کو دے گا اور اگر پوری دیانتداری سے کوشش کے باوجود کوئی اچھا فیصلہ جاری نہ کر سکے اور غلطی کا مرتکب ہوتو اللہ تعالیٰ اس کو ایک جزا دے گا اس کی۔پس اگر نیتوں کے دائرے میں ہم پاک صاف ہو جا ئیں محض للہ نیتیں ہوں تو ہماری کامیابیاں بھی باعث ثواب میں اور ہماری ناکامیاں بھی باعث ثواب ہیں۔اس لئے الہی سلسلے کے اندر ہر پہلو سے فائدہ ہی فائدہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین