خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 46 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 46

خطبات طاہر جلد 15 46 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 1996ء افق ایک ہے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اس کا طریق یہ جاری فرمایا کہ اگر ایک ہی افق کے لوگ کسی موسم کی خرابی کی وجہ سے اکثر نہ دیکھ سکتے ہوں تو ان میں دو قابل اعتماد یا چار قابل اعتماد، کچھ قابل اعتماد لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور وہ کہیں گواہی دیں کہ ہم نے دیکھا ہے تو اگر افق مشترک ہے تو سب کا ہی رمضان شروع ہو جائے گا اور اگر افق مشترک ہے تو سب ہی کی عید ہو جائے گی۔ނ تو من کا لفظ واحد پر بھی آتا ہے اور جمع پر بھی ، یہ مراد نہیں ہے کہ ہر ایک جب تک آنکھ سے دیکھ نہ لے رمضان شروع نہ کرے۔یہ تو ناممکن ہے۔جو ہلال ہے خصوصاً پہلے دن کا ہلال وہ تو آنی جانی چیز ہے دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہو جاتا ہے۔انگلیاں اٹھ رہی ہوتی ہیں اتنے میں وہ مطلع سے غائب ہو چکا ہوتا ہے۔پس ہلال کا مطلع بھی چھوٹا ہوتا ہے اس لئے مَنْ شَهِدَ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تم میں سے جو اپنی آنکھوں سے دیکھے صرف وہی شخص روزے رکھے۔مراد ہے وہ لوگ جن کا افق ایک ہے، جن کے ہمیشہ سے ہی چاند ا کٹھے طلوع ہوتے ہیں، جب طلوع ہوتے ہیں سب پر ہی طلوع ہوتے ہیں جب غروب ہوتے ہیں تو سب پر ہی غروب ہوتے ہیں ، پس وہ لوگ جن کا افق مشترک ہو ان میں سے کوئی بھی دیکھے تو سب قوم کے دیکھنے کا حکم ان پر صادق آجائے گا گویا ساری قوم نے دیکھ لیا۔پس اس پہلو سے مثلاً انگلستان میں غالباً ایک ہی افق ہے خواہ شمال سے جنوب تک جائیں، چاند کے تعلق میں دو افق میرے علم میں نہیں ہیں۔امریکہ میں بعض دفعہ دوافق پیدا ہو جاتے ہیں بعض علاقوں کے لحاظ سے مگر اکثر ایک ہی ہے اور بعض دفعہ امریکہ کا افق عرب کے افق سے مل جاتا ہے۔چاند کا جوBehaviour ہے، چاند کا جو طرز عمل ہے یہ عام روز مرہ کے سورج کے طرز عمل سے بالکل مختلف ہے۔سورج کے طلوع ہونے میں ایک قطعیت ہے اور سورج کے غروب ہونے میں بھی ایک قطعیت ہے۔چاند کے اندر احتمالات اور امکانات ہیں۔اس لئے مَنْ شَهِدَ کا جوارشاد فرمایا گیا ہے انہی بدلتے ہوئے امکانات اور احتمالات کے پیش نظر ہے۔اب اس مضمون میں ایک پہلورہ جاتا ہے جس کی عموماً آپ بحثیں سنتے ہیں اور پڑھتے بھی ہیں وہ یہ ہے کہ کیا مشینی ذرائع سے چاند کا علم پا نا مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ کے تابع ہوگا یا نہیں ہو گا ؟ اگر ہو تو پھر دیکھنا متروک ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مشینوں کے ذریعہ چاند دکھائی دے جاتا ہولیکن نظر سے نہ دکھائی دیتا ہو۔تو کیا قرآن کریم کا پہلا عمل یعنی پہلے دور کا عمل اس مشینی عمل کے مقابل پر رد