خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 509 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 509

خطبات طاہر جلد 15 509 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء قریب کرتے ہیں اور جتنا ان کو قریب کرتے ہیں اتنا عوام الناس ان سے دور ہٹتے چلے جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے ہمیں یہ فرمایا ہے کہ تمہارے اردگرد جو لوگ ہیں انہیں پاک رکھنا تمہاری امارت کی ذمہ داریوں میں سے ہے اور ان کی کمزوریوں سے صرف نظر کی تمہیں اجازت نہیں۔یہ وہ پہلو ہے جس میں میں کئی صاحب امرلوگوں کو ملوث پاتا ہوں۔ایسی کمزوری ہے جو بسا اوقات دکھائی دیتی ہے۔جہاں تک مجھے علم ہوتا ہے جہاں تک میرا بس چلتا ہے انہیں سمجھا کر اس کمزوری کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن پھر بھی مخفی طور پر یہ فطری کمزوری اندر سے سر اٹھا لیتی ہے اور امارت کو اس طریق سے کئی طرح سے نقصان پہنچادیتی ہے۔بہت سے امیر ہیں جو میرے پیش نظر ہیں جب میں یہ بات کر رہا ہوں کسی کا نام لینے کی ضرورت نہیں مگر بہت سے متقی امراء بھی ایسے ہیں جن کے اندر یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ چند لوگوں کے ہاتھ میں وہ گویا کھلونے بن جاتے ہیں اور اپنی طرف سے وہ تقویٰ کے ساتھ یہ فیصلہ کرتے ہیں اور اپنی طرف سے اس وجہ سے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ان کے مددگار، ان کی تائید کرنے والوں میں یہ لوگ سب سے آگے آگے ہیں اور اس بات کو بھلا دیتے ہیں کہ ایسے ہی لوگوں میں مریض بھی شامل ہو سکتے ہیں اور ان کے مرض کی شناخت شرک کے ذریعے ممکن ہے اس کے سوا کوئی ممکن نہیں۔پس جہاں بھی کوئی شخص کسی کے اچھے بھلے فیصلے کی تائید کرتا رہے اور ہمیشہ تائید کرے اور اس کے برعکس جب بعض لوگ اس سے اختلاف کریں تو اس بات کو بھلا دے کہ اختلاف کرنے والے بچے ہیں یا غلط ہیں اور یہ سمجھے کہ میری اطاعت کا تقاضا ہے کہ میں امیر کی ہر بات کی ہاں میں ہاں ملاؤں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل میں شرک پیدا ہو چکا ہے اور امراء کو نصیحت ہے کہ وہ ایسے شرک کی تلاش میں رہیں۔گہری نظر سے مطالعہ کریں اور ایسے لوگوں کو اپنا خیر خواہ نہ سمجھیں جو ہر اچھے بھلے میں ان کی تائید کرتے ہیں بلکہ ان سے متنبہ ہو جائیں اور ان سے فاصلہ اختیار کریں۔جس حد تک ان میں تقویٰ کی کمی دیکھیں اسی حد تک ان سے اپنے آپ کو الگ کر لیں۔یہ معنی ب وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ جہاں شرک کے آثار دیکھو گے ان لوگوں سے ہجرت کر جاؤ ان سے اپنا تعلق ہی تو ڑلو۔وہ اس لائق نہیں ہیں کہ تمہارے ماحول میں رہیں۔پس اس نظر سے جب آپ اپنے ماحول کی شناخت کرتے ہیں تو اس وقت آپ کو حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ آپ کس حد تک خدا کی خاطر لوگوں سے اطاعت کے خواہاں ہیں اور کس حد تک