خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 505 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 505

خطبات طاہر جلد 15 505 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء دیکھتی۔وہ شکوے اور تکلیف کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔وہ کہتی ہے تمہیں پتا کیا ہے کہ محبت ہوتی کیا ہے۔تم کیا جانتے ہو کہ اپنے پیاروں کے دکھ کو انسان کس مشکل سے برداشت کرتا ہے۔پس یہ سمجھانے کے قصے نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جب بھی حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو یہ سمجھایا گویا سمجھایا کہ یہ نہ کر تو ہر گز مراد یہ نہیں تھی کہ آپ کو باز رکھا جارہا تھا۔یہ ایک محبت اور پیار کا اظہار ہے۔محض اس بات کا اظہار ہے کہ میری تیرے دل پر ہمیشہ نظر رہتی ہے اور یہ کبھی ایسا نہیں ہوا اور ایک بھی اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ ایسی دو آیات جو نازل ہوئیں جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ دشمنوں کے لئے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر ان آیات کے نزول کے بعد آپ نے غم چھوڑ دیا ہو۔سورۃ ہود کے متعلق فرمایا اس نے تو مجھے بوڑھا کر دیا ہے کیونکہ یہ غم بناوٹ کا غم نہیں تھا۔جو بناوٹ کا غم نہ ہو جو بے اختیار ہو اس پر نصیحت کا کوئی اثر ویسے ہی ممکن نہیں ہے کیونکہ دل کے معاملات میں نصیحت کا کیا تعلق۔پس وہ غلط سمجھتے ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے گویا آپ کو حکم دیا کہ آج کے بعد غیروں کی فکر کرنا چھوڑ دے۔یہ محمد رسول اللہ ﷺ کی فکر ہی تو تھی جس نے دنیا کی کایا پلٹی ہے۔اس فکر مند اور بے قرار کی دعائیں ہی تھیں جس نے ایک عظیم انقلاب بر پا کر کے دکھا دیا۔پس حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ در حقیقت جو انقلاب عرب میں رونما ہوا جو حیرت انگیز انقلاب بر پا ہوا کہ صدیوں کے مردے جاگ اٹھے اور قبروں سے باہر آگئے۔یہ انقلاب محمد مصطفی ﷺ کی دعاؤں کا انقلاب تھا۔پس خدا کیسے آپ کو بے قرار دل کی دعاؤں سے باز رکھ سکتا تھا ، باز کرتا یہ خیال ہی بالکل باطل اور بے حقیقت ہے۔بعض پیار کے اظہار ہوا کرتے ہیں۔یہ محض اللہ کے پیار کا اظہار ہے کہ میری تجھ پر نظر ہے۔تو لوگوں کے لئے بے قرار ہے میں تیرے لئے بے قرار ہوں اور ان معنوں میں خدا کا بے قرار ہونا ایک محاورہ ہی نہیں حقیقت میں رسول اللہ ﷺ کے ارشادات سے یہ ثابت ہے کہ جس رنگ میں بھی یہ ممکن ہے ہم نہیں جانتے کہ کیسے ممکن ہے بعض دفعہ اپنے بندوں کی خوشی پر اللہ خوش ہوتا ہے اپنے بندوں کی ہنسی کے ساتھ اللہ ہنستا ہے اپنے بندوں کے غم میں خدا گو یا مبتلا ہو جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ایک حدیث جس کا میں بار بار ذکر کر چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ اپنے بعض بندوں سے پوچھے گا کہ جب میں مصیبت میں مبتلا تھا تم نے کیوں میری فکر نہ کی۔جب میں بھوکا تھا تو نے مجھے کیوں کھانا نہ کھلایا۔جب میں ننگے بدن تھا تو نے مجھے کیوں کپڑے نہ پہنائے۔اس مضمون