خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 45
خطبات طاہر جلد 15 45 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 1996ء الگ الگ ہوں اور اگر ایک شخص نے مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّہر کے وقت کو پایا ہو تو اس پر فرض ہے کہ روزے رکھے۔ایک وہ جس نے نہیں پایا اس پر فرض نہیں ہے بلکہ مناسب نہیں ہے کہ رکھے۔اسے انتظار کرنا ہوگا جب تک اس آیت کا اطلاق اس پر نہ ہو۔تو رمضان بھی بعینہ ایک ہی تاریخ کو ہر جگہ شروع نہ ہوتا ہے، نہ ہو سکتا ہے۔ممالک بدل جائیں تو پھر تو ویسے ہی ناممکن ہے کیونکہ اگر جب بھی رمضان کا چاند طلوع ہوگا اس وقت کسی جگہ گھپ اندھیرا، آدھی رات ہوگی کسی جگہ صبح کا سورج طلوع ہورہا ہو گا کسی جگہ دو پہر ہوگی، کسی جگہ عصر کی نماز پڑھی جا رہی ہوگی تو کیسے ممکن ہے کہ خدا نے جو نظام پیدا فرمایا ہے اس کے برعکس احکام جاری فرمائے۔اس لئے مَنْ شَهِدَ کا مضمون ہے جو بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔ہرگز خدا کا یہ منشاء نہیں کہ سب اکٹھے روزے رکھیں ، اکٹھے ختم کریں۔ہر گز یہ منشاء نہیں کہ تمام دنیا میں ایک دن عید منائی جائے یا سارے ملک میں اگر وسیع ملک ہے ایک ہی دن عید منائی جائے۔چھوٹے ملک میں تو ممکن ہے مگر وسیع ممالک بعض ایسے ہیں جو شمال سے بہت دور تک جنوب کے ایک حصے میں پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ان کے افق بدل جاتے ہیں یا شرقا غربا بہت وسیع ہیں۔اب Chile کو دیکھیں کہ کتنا اوپر سے امریکہ کے وسط سے قریباً شروع ہو کر اور جنوب میں وہاں تک چلا جاتا ہے کہ اس سے آگے کوئی اور ملک نہیں ہے جو قطب جنوبی کے قریب تر ہو اس سے اور روس کی چوڑائی اتنی ہے کہ تین گھنٹے کا فرق پڑ جاتا ہے روس کے اندر بلکہ اس سے بھی زیادہ۔امریکہ کی چوڑائی میں وسعت اتنی بڑی ہے کہ وہاں بھی کم و بیش اتنا ہی فرق پڑ جاتا ہے تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ ایک ملک میں بھی بیک وقت رمضان شروع ہو سکتا ہے یا بیک وقت ایک ملک میں ایک عید کا دن طلوع ہو سکتا ہے۔پس قرآن کریم کے جو الفاظ کا انتخاب ہے بہت ہی پر حکمت ہے اور اپنے مضمون کو خو دکھول رہا ہے۔اب بنت کہ کر پھر اس مضمون کو کھولنا اور پھر لوگوں کا اس سے غافل ہو جانا یہ بہت بڑا ظلم ہے۔وہ سمجھتے ہیں مشکوک معاملہ ہے، پتا نہیں کہ قرآن کیا کہنا چاہتا ہے۔قرآن کریم نے تو فرمایا ہے اس میں تو بہت ہیں اس میں الْفُرْقَانِ ہے اس کو پیش نظر رکھو اور پھر غور کرو مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهَرَ فَلْيَصُمْهُ جس پر یہ مہینہ طلوع ہو گا اسی کو روزے رکھنے ہیں۔دیکھا دیکھی سنی سنائی بات پر روزے نہیں رکھنے اور یہاں من میں صرف ایک فرد واحد مراد نہیں ہے بلکہ وہ قوم ہے جس کا