خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 44 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 44

خطبات طاہر جلد 15 44 خطبہ جمعہ 19 /جنوری 1996ء رمضان مبارک میں خصوصیت کے ساتھ ان بدیوں سے روکنے کی تلقین نہ فرمائی گئی ہو۔تو گویا اگر رمضان کا مفہوم آپ سمجھ جائیں اور رمضان کو کامیابی سے گزار جائیں تو گویا آپ نے تمام شریعت پر عمل کر لیا، تمام قرآن پر عمل کر لیا اور یہ امر واقعہ ہے اس میں کوئی مبالغہ آمیزی نہیں ہے۔پس اس پہلو سے وہ ترجمہ بھی بعینہ درست ہے کہ گویا قرآن رمضان کے مہینے کے بارے میں اتارا گیا ہے۔اور جب فرمایا کہ فِيْهِ الْقُرْآنُ تو اس کی تشریح ساتھ ہی فرما دی هُدًى لِلنَّاسِ وہ لوگوں کے لئے ہدایت ہے لیکن ہدایت بھی کئی قسم کی ہوتی ہے۔ایک عام ہدایت ایک زیادہ روشن اور کھلی کھلی ہدایت۔عام ہدایت تو ہر مہینے میں، روز وشب جاری رہتی ہے۔مگر رمضان میں یہ ہدایت خوب کھل کر سامنے آجاتی ہے۔چنانچہ ھڈی کہنے کے بعد فرمایا هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيْنَتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ صرف اس مہینے میں ہدایت عام ڈگر پر نہیں چلتی بلکہ غیر معمولی طور پر کھل کر اور روشن ہو کر انسان کے سامنے چمک اٹھتی ہے وَالْفُرْقَانِ اور فرقان بن جاتی ہے۔یعنی ایسے دلائل اور ایسے روشن دلائل میں تبدیل ہوتی ہے جو قوی غلبے کی طاقت رکھتے ہیں۔پس رمضان مبارک کا حق ادا کرتے ہوئے رمضان مبارک سے گزرنا عام روز مرہ کی ہدایت سے بڑھ کر غیر معمولی ہدایت پانا ہے اور مقام فرقان تک پہنچ جانے کے مترادف ہے۔فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ اس عظیم عنوان کے بعد یہ جو اس مضمون سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے پھر فرمایا ہے کہ روزے رکھو اور صاف پتا چلتا ہے کہ پہلے ذہن اور قلب کو تیار کیا جارہا ہے، کیا ہونے والا ہے؟ کون سا عظیم مہینہ آرہا ہے؟ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ شهد شهر ا سے مراد ہے جو رمضان کو طلوع ہوتا دیکھے۔یعنی رمضان کا چاند جس پر طلوع ہو گاوہ روزے رکھے۔اب رمضان کا مہینہ اصل میں بیک وقت، ہر جگہ اکٹھا طلوع نہیں ہوتا اور یہ بخشیں عام اٹھ رہی ہیں کہ کیوں نہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ سب مسلمان بیک وقت روزے رکھیں اور یہ جو جھگڑے چل رہے ہیں آج ان کا رمضان شروع ہو گیا کل ان کا رمضان شروع ہو گیا ان جھگڑوں کا قضیہ ہی چکا دیا جائے مگر قرآن تو نہیں چکا تا۔قرآن کریم نے تو اس مضمون کو کھلا چھوڑا ہوا ہے۔مَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ہو سکتا ہے کہ ایک ہی ملک میں رہتے ہو اور اس ملک کے افق