خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 500 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 500

خطبات طاہر جلد 15 500 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ اسی پر میں تو کل کرتا ہوں وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ اور وہ بڑے عظیم عرش کا رب ہے۔ اب عظیم عرش کا رب کہنے میں یہاں کون سی حکمت ہے جو اس مضمون کے ساتھ اس بیان کو کونسی باندھ رہی ہے ۔ اصل میں عرش تخت کو کہتے ہیں اور اطاعت کروانے کا مضمون تخت سے تعلق رکھتا ہے۔ شہنشاہی کے تصور کے ساتھ امارت کا تعلق ہے جو اٹوٹ تعلق ہے۔ جہاں بھی آپ بڑے عظیم شہنشاہ یا بادشاہ یا جابر کی بات کرتے ہیں وہاں اس تخت کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے جس پر بیٹھ کر وہ حکومت کرتا ہے۔ فرمایا کہ میں تمہاری چند لوگوں کی اطاعت پر کیسے نازاں ہو سکتا ہوں تم کرو یا نہ کرو میرا اس ذات سے تعلق ہے جو رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ہے۔ جس کی تخت گاہ کا ئنات میں ہر چیز پر حاوی ہے اور کوئی ادنی ذرہ بھی کائنات کا اس کی اطاعت اور اس کی عظمت سے باہر نہیں ہے۔ پس میں اگر تمہارا مطاع بنایا گیا ہوں تو اپنی ذات کی وجہ سے نہیں رب عرش عظیم کے تعلق کی وجہ سے بنایا گیا ہوں ۔ تمہاری خاطر میں قربانیاں دوں گا ، قربانیاں دیتا ہوں ہم پر مہربان ہوں، مہربانی کا سلوک کرتا رہوں گا مگر اس وجہ سے نہیں کہ مجھے تمہاری ضرورت ہے۔ تمہیں میری ضرورت ہے۔ اس لئے کہ میں رب عرش عظیم کا نمائندہ ہوں ۔ یہ وہ پہلو ہے امارت کا جس کو ہمیں ہر احمدی امیر میں دیکھنا ہوگا کیونکہ اس کے بغیر وہ لوگ جو اطاعت کرتے ہیں انہیں نہ اطاعت کا سلیقہ عطا ہو سکتا ہے، نہ حوصلہ مل سکتا ہے، نہ ان کا دل ہر قسم کی نفسانی ملونی سے پاک ہو سکتا ہے۔ اطاعت کرنا ایک مشکل کام ہے کیونکہ ہر انسان اپنی انا کا غلام ہے اور جب اس کی انا کسی اور کی راہ میں حائل ہوتی ہے تو ہمیشہ انا دل میں ایک کہرام مچا دیتی ہے۔ ہر اطاعت کے وقت اس کا دل چاہتا ہے کہ میں آزاد ہوں ہر قسم کی غلامی سے باہر نکل آؤں ۔ پس یہ جو آزادی کا پیغام انا دیتی ہے وہ ہر دوسرے کی اطاعت سے متصادم ہو جاتا ہے اور جہاں تک دنیا کی اطاعتوں کا تعلق ہے یہ انا ضرور سر اٹھاتی ہے مگر اندر ہی اندر بڑ بڑاتی رہتی ہے اگر زور نہ چلے اور جب بس چلے وہ اطاعت کا جوا اتار پھینکنے کی پوری کوشش کرتی ہے۔ پس یہ بھی ایک فرق ہے جو ڈکٹیٹر شپ کی اطاعت اور اللہ کی طرف سے ماموروں کی اطاعت کا فرق ہے۔ وہاں انا کو دبانے کے لئے تمام بیرونی سامان مہیا ہوتے ہیں تمام بیرونی طاقتیں