خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 497 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 497

خطبات طاہر جلد 15 497 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء کا میں نے انتخاب کیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِّنْ اَنْفُسِكُم دیکھو تم میں ایک رسول آیا جو تم ہی میں سے ہے اور وہ شخص جو تم ہی میں سے ہے اس کی اطاعت تم پر لازم کر دی گئی ہے لیکن تم میں سے ہونے کے باوجود وہ کچھ مختلف صفات رکھتا ہے۔ایسی عظیم الشان صفات ہیں جو اسے تم میں سے ہونے کے باوجود تم سے جدا بھی کر رہی ہیں اور ان میں سے ایک یہ ہے عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ جب بھی تمہیں کوئی دقت پیش آئے جب بھی تم کسی مشکل میں مبتلا ہو اس پر یہ بات شاق گزرتی ہے۔ہر اس شخص کی تکلیف جس کا آپ کو مطاع بنایا گیا آپ کے دل پر چوٹ لگاتی ہے اور آپ کے اندر کرب کے آثار پیدا کر دیتی ہے۔صرف انہی کی نہیں جو آپ کے غلام ہوئے بلکہ ان کی بھی جن تک آپ کا پیغام پہنچنا تھا اور جن تک پیغام پہنچانے کے باوجود یہ مقدر تھا کہ وہ انکار کر دیں گے ان کے انکار کا تصور بھی آپ کو اذیت پہنچاتا ہے۔پس یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جو ہرا میر کو اپنے دل اور اپنے نفس میں ٹولنا چاہئے کہ موجود ہے بھی کہ نہیں اور یہ وہ بنیادی صفت ہے جو اسلامی اطاعت کے تصور کو ڈکٹیٹر شپ کے تصور سے بالکل جدا کر دیتی ہے۔لوگ حضور اکرم ﷺ کی اطاعت کے رنگ دیکھ کر بسا اوقات غلط فہمیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں یعنی وہ لوگ جو غیر ہیں اور بعض مستشرقین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے تو ایک بہت ہی خطرناک اور مکمل ڈکٹیٹر شپ کا نظام پیش کیا ہے۔دیکھو جیسی اطاعت حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی آپ کے زمانے میں کی گئی اور جس طرح ہر فرد بشر اپنے آپ کو آپ کے حکم کے تابع سمجھتا تھا اتنی سخت اطاعت تو دنیا کی کسی ڈکٹیٹر شپ میں نہ دیکھی گئی ، نہ سنی گئی۔پس گویا اسلام ایک شخصی حکومت کی اور ایسی شخصی حکومت کی بنیاد ڈال رہا ہے جس کی نظیر انسانی شخصی حکومتوں میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔یہ ایک محض سطحی اعتراض ہے اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں اور یہ وہ اعتراض ہے جس کو آج پیش نظر رکھ کر میں وضاحت کے ساتھ ڈکٹیٹر شپ اور اسلامی نظام امارت میں فرق کر کے دکھانا چاہتا ہوں۔کچھ امور تو وہ ہیں جن کا قرآن کریم نے یہاں ذکر فرمایا یعنی وہ شخص جو ہمہ وقت اپنے پیچھے چلنے والوں ، اپنے مطیع افراد جماعت کے لئے بے چین رہے اور بے قرار رہے، ایک ادنی سی تکلیف ان کی اسے ہمیشہ گہری تکلیف میں مبتلا کر دے اس شخص کے متعلق ڈکٹیٹر شپ کا کوئی تصور ممکن ہی نہیں۔کوئی دنیا کا ڈکٹیٹر کھا ئیں تو سہی جسے ان لوگوں کے تعلق میں جن پر اسے حکومت نصیب ہوا یسی