خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 496
خطبات طاہر جلد 15 496 خطبہ جمعہ 28 جون 1996ء والوں کو اطاعت کے آداب سکھائے جائیں اور وہ جنہوں نے انہیں دین سکھانا ہے انہیں اطاعت کروانے کے آداب سکھائے جائیں۔ورنہ بہت سی غلط فہمیاں ایسی پیدا ہوسکتی ہیں جو نئے آنے والوں کو اسلام اور اسلام کے نظام سے متنفر کر دیں یا کم سے کم سخت غلط فہمیوں میں مبتلا کر دیں۔علاوہ ازیں جماعت میں پرانے داخل ہونے والوں کو بھی اس بات کی ضرورت رہتی ہے کہ بار بار ان کے سامنے اس مضمون کو تازہ کیا جاتا رہے۔اطاعت کے تعلق میں گزشتہ دو خطبوں سے پہلے ایک خطبات کا سلسلہ شروع کیا تھا اس میں اطاعت کے تمام پہلوؤں پر قرآن کریم اور سنت کے حوالے سے روشنی ڈالی تھی۔اب میں ان لوگوں کے فرائض کا یا ان ذمہ دار افسروں کے فرائض کا ذکر کر رہا ہوں جو اطاعت لینے پر مامور کئے گئے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ وہ شخص جس کی اطاعت کا حکم دیا جاتا ہے اسے خود بھی اپنے اندر بعض صلاحیتیں پیدا کرنی ہیں جن صلاحیتوں کے بغیر وہ حقیقت میں کسی کو اطاعت کے آداب سکھا ہی نہیں سکتا، نہ کسی مطیع سے اس رنگ کی اطاعت کروا سکتا ہے جو اطاعت اسلام چاہتا ہے۔چنانچہ سب سے اعلیٰ نمونہ جو اطاعت لینے والے کا نمونہ ہے وہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کا نمونہ ہے۔سب سے زیادہ جس کی اطاعت فرض تھی سب سے زیادہ اطاعت لینے کے گر اسی نے سکھانے تھے اور اسی نے سکھائے اور آنحضرت ﷺ کے انداز امارت میں اتنی دلکشی ہے اور اتنا گہرا جذب حسن ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ امارت سے متعلق ہر قسم کی غلط فہمیوں کو دور کرتا ہے بلکہ غیر معمولی طاقت اور جذب کے ساتھ لوگوں کو اطاعت کی طرف کھینچتا ہے۔یہی وہ مضمون ہے جو کچھ عرصے سے میں نے جاری کیا ہے۔اب اسی کے کچھ پہلو ہیں جو آج انشاء اللہ میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔اطاعت جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دنیا میں اگر کبھی کسی کی ہمیشہ کے لئے فرض ہوئی ہے تو وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہے کیونکہ قیامت تک آپ کی امارت کا دور ہمیشہ جاری رہے گا۔اس پہلو سے آپ حقیقت وہ زندہ رسول ہیں جن کی اطاعت سے سر موبھی انحراف کی طاقت نہیں ہے اور اجازت نہیں ہے۔ان غیر معمولی امارتوں کی صلاحیتوں کے ساتھ جو آنحضرت ﷺ کو فطرتاً نصیب تھیں اللہ تعالیٰ نے وقتا فوقتا وحی کے ذریعے آپ پر امارت کے اسلوب روشن فرمائے اور وہی آیات ہیں جن کے حوالے سے میں اس مضمون کو جماعت پر کھول رہا ہوں۔آج کے لئے جس آیت