خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 488
خطبات طاہر جلد 15 488 خطبہ جمعہ 21 جون 1996ء چنانچه قرآن کریم اس کے بعد فرماتا ہے فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ تمہیں کیوں وہم ہو گیا ہے کہ میں تم پر رحمت سے جھکا ہوا تھا اس لئے کہ تم مجھے ذاتی طور پر پیارے لگتے ہو۔ وہ تو اللہ کی خاطر تھا۔ اگر تم خدا کی نافرمانی کرو گے یہاں عَصَول میں محمد رسول اللہ ﷺ پیش نظر ہیں لیکن آپ کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے ۔ اس کے سوا کوئی اور نافرمانی ممکن ہی نہیں کہ انسان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے نافرمانی کرے اور وہ آپ کی نافرمانی ہو، خدا کی نہ ہو۔ اس مضمون کو قرآن بھی کھول چکا ہے بار بار رسول اللہ ﷺ خود بھی اس مضمون کو کھول چکے ہیں اس لئے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ، مزید دلائل پیش کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ایک مسلمہ غیر مبدل حقیقت ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی لاز ما خدا کی نافرمانی ہے اور اس کے سوا اس نافرمانی کو کوئی اور معنے نہیں پہنائے جاسکتے ۔ فَإِنْ عَصَول میں اس لئے مخاطب " تجھے“ کہہ کر رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے کہ آپ لوگوں پر جھک رہے تھے ، آپ لوگوں سے رحمت کا سلوک فرمارہے تھے ، یہ گواہی دینا مقصود ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی رافت ، آپ کی شفقت اللہ کی خاطر تھی ، ان کی خاطر نہیں تھی۔ فرمایا پس جب یہ تیری نافرمانی کریں تو ان کی پہلی اطاعتوں کی ، ان سے پہلے تعاون کی کچھ بھی پرواہ نہ کر۔ تو کہہ دے میں تم سے بیزار ہوں ۔ تم یہ جو حرکتیں کر رہے ہو یہ میرے محبوب آقا کی مرضی کے خلاف ہیں اس لئے تم بھی میری مرضی کے خلاف ہو گئے ہو۔ اگر ایسا کرو گے تو ان کے چھوڑ جانے کا تمہیں کوئی بھی غم نہیں ہونا چاہئے ۔ وَتَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِيزِ الرَّحِيمِ جب تو یہ کرے تو یا د رکھ اللہ جو عزیز ہے، اللہ جو رحیم ہے، جو غالب اور بزرگی والا ہے، جو بار بار رحم فرمانے والا ہے اس پر تو کل رکھ ۔ وہ تجھے کبھی نہیں چھوڑے گا کیونکہ جس سفر کا آغاز توحید سے ہوا، جس کا بنی نوع انسان سے تعلقات کا آغاز اس طرح ہوا کہ خدا کی خاطر لوگوں کو ڈرا دھمکا کر دور کر دیا، جو قریب آئے ان کو بھی جب بھی وہ خدا سے دور ہوئے اپنی ذات سے دور کر دیا جب یہ سلوک ہو تو پھر تو کل علی اللہ کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ اس کے سوا کوئی نتیجہ نکل ہی نہیں سکتا۔ پس صلى الله ہر وہ صاحب امر جو اس اسلوب پر چل پڑے حضرت رسول اللہ ﷺ کی اس سنت کو اپنا لے اس کو کوئی بھی خطرہ نہیں ۔ وہ جب سزا دے گا تو خدا کی خاطر دے گا ، جب تعلق بڑھائے گا تو خدا کی خاطر بڑھائے گا اور ان لوگوں کا اس تعلق کی پرواہ نہ کرنا یا نہ کرنا اس کی نظر میں کوئی بھی حقیقت