خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 487
خطبات طاہر جلد 15 487 خطبہ جمعہ 21 / جون 1996ء تَسْتَكْثِرُ (المدثر: 7) تو اس وجہ سے کسی پر احسان نہ کر کہ اس کے بدلے میں تجھے زیادہ دیا جائے گا۔پس نہ ان کی نیت میں کچھ زیادہ لینا شامل ہوتا ہے نہ ان کی نیت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ خدا کی رضا کی بجائے کسی اور کی خاطر ان پر جھکیں اور جب کلیۂ خدا کی خاطر جھکتے ہیں تو ان کا احسان ، ان کا شکریہ، ان کا تشکر بجائے دل کو ایک غذا دینے کے لئے اندر ایک قسم کا ایک زلزلہ طاری کر دیتا ہے کہ یہ کیا ہو گیا۔ہم تو بہت بالا قیمت چاہ رہے تھے۔ہم نے تو اپنے اللہ کی خاطر یہ کیا تھا۔ان کے شکریے کہیں ہمارے نفس کو موٹا نہ کر دیں۔تو واقعہ ان کے دل پر ایک زلزلے کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور وہ گھبراتے ہیں اور لازم نہیں کہ وہ اس بات کو ظاہر کریں۔مگر قرآن کریم نے ان کی زبان سے ظاہر کیا ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اس سوسائٹی میں ہمیشہ یہ نہیں ہوا کرتا تھا کہ ہر وہ شخص جس کا شکریہ ادا کیا جائے وہ آگے سے انہی الفاظ میں جواب دیا کرتا تھا۔بعض باتیں ایسی ہیں جو صحابہ کے دل میں وارد ہوتی تھیں اور اللہ کے پیار کی نظر ان پر پڑتی تھی اور وہ آنحضرت ﷺ پر روشن کر دیا کرتا تھا کہ اے میرے پاک غلام ، غلام کامل تو نے آگے بھی دیکھو کیسے کیسے پیارے غلام پیدا کر دیئے ہیں۔تیرے ہی رنگ میں رنگین ہیں۔ان کا شکر یہ ادا کیا جائے تو ان کا دل آوازیں دیتا ہے کہ نہ نہ ہمارا شکر یہ ادا نہ کرو ہم تو محض خدا کی خاطر ایسا کرتے تھے۔پس اگر وہ خدا کی خاطر ہی یعنی ہر صاحب امر خدا کی خاطر اپنے ماتحتوں سے پیار اور محبت کا سلوک کرتا ہے تو ان کے شکریے کی نہ تو اسے توقع ہوتی ہے اور نہ اسے پر واہ ہوتی ہے۔جب توقع نہیں تو اس کے برعکس پہلو بھی ہے اور وہ ہے پر واہ بھی کوئی نہیں۔اس لئے کہ اگر جب ذاتی تعلق ان سے نہیں تھا جس کی خاطر ان پر رحمت کی جارہی تھی تو اللہ سے اگر وہ دور ہٹیں گے تو یہ شفقت کرنے والا اسی حد تک ان سے دور ہٹ جائے گا اور ان کی اس بارے میں کچھ بھی پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ اس سے کیسا پیار کا تعلق رکھتے تھے۔بے انتہا محبت اور فدائیت کا اظہار کرنے والے بھی جب ایسی روش اختیار کرتے ہیں جس سے خدا ناراض ہو تو جن کو پیار دیا جاتا ہے ان کو اس بات کی کوڑی کی بھی پرواہ نہیں رہتی کہ یہ تو مجھ سے محبت کرنے والا تھا۔وہ اسی طرح جیسا کہ خدا کی آنکھ انہیں دیکھتی ہے انہیں ناراضگی سے دیکھتا ہے اور ان کے چھوڑ کے چلے جانے کی ادنیٰ بھی پرواہ نہیں کرتا۔پس توحید کا یہ مضمون بالآخر تو کل پر منتج ہو جاتا ہے۔