خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 486
خطبات طاہر جلد 15 486 خطبہ جمعہ 21 جون 1996ء آنحضرت نبوت سے پہلے ذاتی شفقت سے لوگوں پر اسی طرح جھکا کرتے تھے ۔ مگر جب نُورٌ عَلَى نُورٍ ( النور : 36) ہوئے تب کیفیت بدل گئی۔ اس کے بعد ہر رافت ، ہر شفقت، ہر رحمت خدا کے تعلق سے اوپر سے اترا کرتی تھی اور بنی نوع انسان سے آپ کی محبت کو الہی محبت کی تائید حاصل سے اور بنی سے محبت کی ہوگئی اور آپ کی الہی محبت بنی نوع انسان کی محبت میں تبدیل ہونے لگی ۔ یہ وہ پہلو ہے جو امارت کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے قرآن کریم نے ہمارے سامنے رکھا ہے اور اسی پہلو کو ہر صاحب امر کو سمجھنا ضروری ہے۔ میں جب امیر کہتا ہوں تو ہرگز مراد یہ نہیں کہ محض وہ امیر جو ملکوں یا شہروں یا محلوں کے بنائے جاتے ہیں۔ امیر سے مراد ہر وہ شخص جسے کچھ بھی امر سونپا جائے اور خدا کی خاطر سونپا جائے اور خدا کے نام پر سونپا جائے ۔ اس کی تربیت کے لئے یہ مضامین ہیں جو قرآن کریم نے ہم پر کھولے ہیں ۔ فرمایا کہ تم امیر ہے امیر ہو مگر اب یاد رکھنا کہ اللہ کی خاطر جس طرح محمد رسول اللہ ﷺ ان پر جھک گئے تھے جن کے ﷺ نے سر خدا کی خاطر ان کے سامنے جھکائے گئے تھے تم بھی ان پر جھک جانا اور ان کی خاطر نہیں، اللہ کیونکہ ان کی خاطر جھکو گے تو تمہارے اندر شرک کے شائبات داخل ہو جائیں گے۔ شرک کے خطرات تمہیں ہو سکتا ہے واقعہ ہلاک کر دیں کیونکہ جب بھی انسان کسی سے رحمت کا تعلق رکھتا ہے یہ خطرہ موجود رہتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں جو پیار اور محبت کا سلوک اس سے کیا جاتا ہے وہ ان دونوں کو ایسے رشتوں میں باندھ دے کہ خدا کا مضمون بیچ میں سے غائب ہو جائے ۔ اسی لئے قرآن کریم نے ہمیں خوب اچھی طرح وضاحت کے ساتھ یاد کرایا۔ میرے وہ بندے جو میری خاطر بنی نوع انسان کی خدمت کرتے ہیں اور ان سے محبت کا سلوک کرتے ہیں جب ان کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (الدھر: 10 ) کہ کیا کر رہے ہو ہم تو خدا کی خاطر تم سے پیار کر رہے تھے تم شکریے ادا کر کے ہمارے پیار کو کیوں میلا کرتے ہو۔ ہمیں تم سے کسی خیر کی توقع نہیں ۔ یعنی توقع سے مراد یہ ہے کہ چاہتے نہیں ہیں کہ تم ہم سے کوئی سلوک کرو، ہماری نیکی محض اس کی خاطر تھی جس کی ہماری نیکی پر نظر ہے۔ اسی سے ہم پیار چاہتے ہیں ۔ اسی کی رضا تلاش کرتے ہیں۔ پس شکریہ ادا کر کے ہماری نیکی کو میلا نہ کر دینا۔ کو نہ اور پھر قرآن کریم نے اسی مضمون کو ایک دوسری جگہ یوں بیان فرمایا وَلَا تَمْنُنْ