خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 478
خطبات طاہر جلد 15 478 خطبہ جمعہ 21 / جون 1996ء خطرے سے بچنا بہت ہی مشکل کام ہے۔یہ انانیت کا ہی سر ہے جو شیطان کہلاتا ہے اور ہر نفس میں موجود ہے، ہر نفس میں ہمیشہ ہر لحظہ اپنے نفس کو ڈسنے کے لئے تیار رہتا ہے۔اس پہلو سے میں نے جماعت کو نصیحت کی تھی کہ اطاعت سے کبھی بھی قدم باہر نہ نکالیں اور اطاعت میں بڑے اور چھوٹے کا کوئی فرق نہیں رہتا کیونکہ اطاعت محض خدا کی خاطر ہوتی ہے اور اللہ کے حکم کے تابع ہی انسان اطاعت پر مجبور فرمایا گیا ہے۔پس وہ اطاعت جو اللہ ہوگی اس میں نہ بڑے کا کوئی فرق رہے گا ، نہ چھوٹے کا۔نہ اعلیٰ نبی کا نہ ادنی نبی کا۔لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ (البقرة : 286) کا اقرار کرتے ہوئے مطبع جماعت ہمیشہ اطاعت کے رستوں پر آگے قدم بڑھاتی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ جن کی اطاعت کرنا ہے ان کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔ان کے بھی تو کچھ فرائض ہیں۔وہ اگر ان فرائض کو ادا نہیں کریں گے تو ناممکن ہے کہ جماعت حقیقی معنوں میں سنت رسول اللہ اللہ کے مطابق اطاعت کے حق ادا کر سکے۔اس ضمن میں میں نے وہ آیت کریمہ پیش کی تھی کہ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تو ان لوگوں کے لئے نرم نہ ہوتا ، اگر تیرے دل میں ان لوگوں کی محبت اور پیار نہ پیدا ہوتے تو پھر تو ان لوگوں کو کبھی بھی اکٹھا نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اطاعت کے لئے محض امر کافی نہیں ہوا کرتا ، اطاعت کے لئے ایک گہرا قلبی تعلق ہے جس پر قائم ہونا ضروری ہے۔پس میں نے جماعت کو سمجھایا کہ اگر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے لئے بھی آپ کی رحمت کو ، آپ کی شفقت اور رافت کو موجب اطاعت قرار دیا گیا اور فرمایا کہ اے مومنو! تم میں اپنے ایمان کے لحاظ سے اتنی استطاعت ہی نہیں کہ اطاعت کر سکو۔تمہاری اطاعت بھی محمد رسول اللہ اللہ کی ممنون احسان ہے۔آپ شفقت نہ فرماتے ، آپ رحمت کا سلوک نہ فرماتے تو تمہیں اطاعت کی تو فیق بھی نہیں مل سکتی تھی۔یہ وہ مضمون ہے جو ہمیشہ ہمیش کے لئے ہر اس امیر پر اطلاق پاتا ہے جو ملک کا امیر ہو یا صوبے کا یا علاقے کا یا ضلع کا یا شہر کا یا اس کے تابع اور صاحب امرلوگ ہوں جو اپنی امارت کے اختیارات اوپر سے لیتے ہیں۔ان میں سے چھوٹے سے چھوٹا صاحب امر بھی اسی مضمون کے تابع ہے اور جماعت احمدیہ کے لئے لازم ہے کہ ہر شخص جس کو کوئی امر کا اختیار بخشا گیا ہے وہ اپنے ماتحتوں سے محبت اور شفقت اور رحمت کا سلوک کرے اور جس طرح ان لوگوں کی اطاعت میں اس کی ذات