خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 467
خطبات طاہر جلد 15 467 خطبہ جمعہ 14 /جون 1996ء بے وفائی ہے۔کسی عورت کا کوئی کام نہیں ہے کہ جس منصب پر اس کا خاوند فائز ہوا ہے اس منصب سے تعلق میں کسی طرح بھی اس پر اثر انداز ہو۔سوائے مغفرت رحم اور شفقت کے۔یہ الگ مضمون ہے۔شفقت اور رحمت اور مغفرت کی استدعا کرنا یہ تو بالکل اور بات ہے مگر پولیٹیکل Issue بنالینا اس کو کہ چونکہ میرا خاوند ایک مامور ہے کسی منصب پر اس لئے میں اس کو بتاؤں کہ فلاں اچھا ہے،فلاں برا ہے ، فلاں یوں کرتا ہے ، فلاں یوں کرتا ہے۔یہ باتیں بالکل ناجائز ہیں کسی قیمت پر قبول نہیں ہونی چاہئیں۔اس پہلو سے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ میں نے جو اپنی بیوی سے تعلق رکھا ہمیشہ صرف ایک دفعہ ایک واقعہ ہوا کہ حضرت خلیفہ اسیح نے کچھ ناراضگی کا اظہار کیا مجھ پر تو میری بیوی کے دل پر چوٹ لگی تو اس نے کچھ لفظ کہے۔اس دن میں نے ان کو کہ دیا کہ آج کے بعد پھر یہ نہیں ہوگا۔کبھی ہوا تو تم سے کاٹا جاؤں گا اور خلیفہ وقت کا ہو کے رہوں گا۔چاہے وہ مجھے جوتیاں ماریں چاہے مجھے غلام رکھیں مجھے تمہاری محبت پسند نہیں ہے اس غلامی کے بدلے جس پر تمہارے الفاظ کا منفی اثر میں نے دیکھا ہے۔وہ دن اور موت کا دن ایک دفعہ بھی کبھی ساری عمر انہوں نے میرے فرائض کے تعلق میں کبھی اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی۔میں صدر خدام الاحمدیہ رہا، میں وقف جدید میں رہا ، میں انصار اللہ میں بھی رہا اشارہ یا کنایہ بھی انہوں نے مجھے کبھی کوئی بات نہیں کہی اور یہی حال ہمارے گھر کے ماحول کا تھا ہمارے نوکروں، ہمارے بچوں کا۔بعض دفعہ لوگ ایسے بے وقوف ہیں اور ایسے کچی فطرت کے لوگ ہوتے ہیں، کچھی عادتوں کے، کہ وہ اپنی عادتیں دوسرے کی طرف اس طرح منتقل کر دیتے ہیں۔ایک لکھنے والے نے مجھے لکھا کہ وہ جو ساری عمر آپ کے گھر نو کر رہی ہے وہ آپ کے اوپر چونکہ اثر انداز ہو جاتی ہے باتیں کر کے اس لئے آپ نے بعضوں کے متعلق اچھی رائے قائم کر لی ہے بعضوں کے متعلق نہیں۔اس بے چاری کا تو یہ حال ہے کہ اس کے داماد کو میں نے جماعت سے خارج کیا اور مجال نہیں کہ اشارہ بھی کبھی کوئی زبان پہ حرف لائی ہو۔وہ جانتی ہے اس کی تربیت میرے گھر میں ہوئی ہے اس کو پتا ہے کہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ جماعتی معاملات میں اسے زبان کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔پس یہ میں اس لئے مثالیں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ میں ان تجربوں سے گزرا ہوا ہوں۔میں جانتا ہوں کہ یہ