خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 453
خطبات طاہر جلد 15 453 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء مرکزی ماحول تھا اس کے غلبے کے اندر آئے ہوئے تھے، مہمان ٹھہرے ہوئے تھے ، اپنی حدود کو سمجھتے تھے اور سارا ماحول جوارد گر د تھا جو ان کی کلاسوں میں آیا بھی کرتا تھا جن سے روز ملاقاتیں ہوتی تھیں اور سارے انہی عقائد کے قائل تھے جو جماعت ان کو سکھا رہی تھی تو اس سے وہ مرعوب ہو گئے اور زیادہ پھر اصرار نہیں کیا بدیوں پر۔جب ان لوگوں نے جا کر ان کو سکھایا کہ ہم یہ سیکھ کر آئے ہیں ہم واقعہ غلط سمجھتے تھے تو ان کی باتوں کا نیک اثر ہوا۔اور قرآن کریم جب یہ تعلیم دیتا ہے تو اس کی مثالیں بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے اور عجیب کامل کتاب ہے۔کوئی بھی ایسی تعلیم نہیں جس کی ایک نہایت ہی اعلیٰ اور پاکیزہ مثال ہمارے سامنے نہ رکھ دی ہو۔اس مضمون کی مثال ان جنوں کے واقعات میں دی گئی جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔بعض لوگ انہیں جنوبی عرب کے قبائل قرار دیتے ہیں مگر زیادہ مستند تحقیق یہ ہے کہ وہ افغانستان کا ایک وفد تھا اور پٹھان قبائل تھے چونکہ یہ روایت سارے افغانستان میں تمام قبائل میں موجود ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں ہمارا ایک وفد مخفی طور پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور انہوں نے واپس آکر جب تعلیم دی تب ہم مسلمان ہوئے ہیں۔اب یہ اگر ایک فرضی روایت ہوتی تو چند قبائل کی ہو سکتی تھی ساری قوم کی متفق علیہ گواہی نہیں بن سکتی تھی اور قرآن کریم نے جو ذکر فرمایا ہے وہاں یہ بات بطور خاص ہے کہ ان کی Identity مخفی رکھی گئی ، ان کے تشخص کو ظاہر نہیں فرمایا گیا۔یہاں تک آنحضرت ﷺ ایک صحابی کو ساتھ لے کر چلے تو اسے دور کھڑا کر دیا کہ اب یہاں سے آگے تم نے قدم نہیں رکھنا۔میں اکیلا جاؤں گا اور پھر ساری رات ان سے تبلیغ کی ہے۔وہ زبان سمجھنے والے ہوں گے، کوئی ایسے مترجمین ان کے ساتھ ہوں گے۔جو بھی صورت تھی وہ جب واپس گئے ہیں تو قرآن کریم فرماتا ہے یہ باتیں کر رہے تھے کہ ہم بھی کیسے پاگل تھے یہ یہ رسمیں، یہ یہ خیالات ہم میں پائے جاتے تھے۔اب عرب وفد اگر کوئی جاکے افغانستان میں جن کے آغاز ہی سے شدید مزاج ہیں باتیں کرتا تو شاید زندہ بیج کے واپس نہ آتا۔مگر قوم نے جو وفد بھیجا تھا جب وہ سیکھ کر واپس گیا ہے تو قرآن کہتا ہے کہ بڑے عزم کے ساتھ وہ یہ کہتے ہوئے واپس جارہے تھے کہ ہاں ہم جا کے قوم کی اصلاح کریں گے۔بتائیں گے کہ پاگل تھے وہ ہمارے آبا ؤ اجداد جو یہ یہ باتیں کیا کرتے تھے یہ یہ سوچا کرتے تھے ، اصل حقیقت یہ ہے اور اسی وقت انہی