خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 446 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 446

خطبات طاہر جلد 15 446 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء وہ اور اچھے لباس پہن کر یا اپنی دولت کے برتے پر خدمتیں کرتے ہیں تبلیغ کی خاطر لیکن اندر سے و صفات باری تعالیٰ سے عاری ہوتے ہیں ان کی ان سب کوششوں کو خدا رائیگاں کر دیتا ہے۔اس کو کوئی بھی پھل نہیں لگتا چنانچہ ضیافت کرنے والے دو قسم کے میں نے دیکھے ہیں۔بعض ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے تو مہمان نوازی کی بھی حد کر دی، بڑا خرچ کیا ان لوگوں پر، بڑی خدمتیں کی ہیں، کوئی سنتا ہی نہیں کسی کو دلچسپی ہی نہیں ہے۔ایک صاحب جن کا میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں ان پڑھ یا قریباً ان پڑھ اپنے آپ کو کہتے تھے میں تو کورا چٹا بالکل لیکن غیر قوموں کو جن کی زبان بھی وہ نہیں جانتے ان کو کامیابی سے تبلیغ کرنے والے یہاں تک کہ ایک سال میں خدا تعالیٰ کے فضل سے تمہیں پھل انہوں نے جماعت کی خدمت میں پیش کر دئے۔بڑے مخلص اور باعمل اور نیک لوگ۔ان سے میں نے پوچھا کیا بات آپ کیا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا آتا جاتا مجھے کچھ نہیں صرف پیار کے ساتھ کہتا ہوں جی بات سچی سن لو، ہماری بات۔یہ کہ دیتا ہوں مجھے بات نہیں آتی ہماری ویڈیو دیکھ لو ہمارے گھر کھانا کھالو یہی میری تبلیغ ہے۔لیکن چونکہ ان کے اندر نیکی اور سچائی ہے اس لئے ان دو تین باتوں کا اتنا گہرا اثر پڑ جاتا ہے ان لوگوں پر کہ وہ گھر کا کھانا کھاتے ہیں تو دراصل وہ اسلام کی غذا کھارہے ہوتے ہیں۔ویڈیودیکھتے ہیں تو وہ اسلام کو جلوہ گر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ورنہ دیکھنے والے غلط نظریں لے کر آئیں تو وہی ویڈیو ان کو اور متنفر کر دیتی ہے۔غلط ذوق لے کر آئیں تو وہی کھانا ان کو دھکیل دیتا ہے کہ یہ کیسا کھانا پکا ہوا ہے اس میں مرچوں نے میر استیا ناس کر دیا۔مگر وہاں کے جو لوگ ہیں جن کو مرچوں کی عادت نہیں پیار سے پیش کئے ہوئے کھانے کو بڑی محبت سے کھاتے ہیں اور پھر بہت تیزی کے ساتھ ان کی دعوت الی اللہ ان کے دل پر اثر کرنے لگتی ہے۔پس وسیلہ بننے کے لئے ظاہری اخلاق کام نہیں آتے وہ گہرے اخلاق کام آتے ہیں جو ذات باری تعالیٰ سے تعلق رکھتے ہوں اور خدا تعالیٰ کے تصور میں ان کی جڑیں ہوں اور ظاہر ان کی تمیز کرنا، ان کا فرق کرنا الفاظ میں ممکن نہیں ہوتا۔ایک آدمی جی آیاں نوں کہہ کے بات کرتا ہے۔”حاضر سائیں کہتا ہے۔ایک دوسرا بھی کہتا ہے۔ایک کے کہنے میں تصنع دکھائی دیتا ہے، بناوٹ کی بات نظر آتی ہے اور انسان ذرا بھی اس کی طرف توجہ نہیں دیتا۔بعض بڑے بڑے لفاظیاں کرنے والے، بڑے بڑے جھک کر کلام کرنے والے ایسے ہمارے ملک میں موجود ہیں جن