خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 444
خطبات طاہر جلد 15 444 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء لوگ بے غرضی سمجھتے ہیں وہ حقیقت کی دنیا میں سب سے بڑی خود غرضی یعنی معقول خود غرضی ہے۔ایک شخص کو جہاں فیصلہ کرنا ہو کہ یہ ایک لاکھ کی رقم وصول کرنی ہے یا ایک روپیہ لینا ہے تو ظاہر بات ہے اگر اسے واقعہ دکھائی دے رہا ہے ایک لاکھ تو ایک لاکھ ہی لے گا روپے کو چھوڑ دے گا مگر روپیہ اس کی جیب میں ہے تو جیب سے نکال کر پھینکنا ہو گا یہ شرط ہے پھر وہ لاکھ بھی ملے گا۔لیکن اگر لاکھ دکھائی نہ دے رہا ہو اور لوگوں کو بھی دکھائی نہ دے رہا ہو اور ایک شخص ایک چھوڑ کر ہزار بھی پھینک دیتا ہے جیب سے نکال کے تو اس سے بڑا یقینی گواہ اس لاکھ کے حق میں میسر نہیں آسکتا۔عدم ہونے کے باوجود اتنا حقیقی ہو گیا کہ جو موجود چیزیں تھیں وہ اس کی خاطر قربان کر دی گئیں۔پس انبیاء کی امتیں جب اخروی دنیا کی شہادت اس طرح دیتی ہیں کہ وہ زندگی جو ہاتھ میں ہے جو رگوں میں دوڑ رہی ہے اسے اس یقین پر کہ ہم نے لازماً زندہ ہونا ہے اور ہمیشہ کے لئے زندہ ہونا ہے اس طرح نکال کر پھینک دیتے ہیں جیسے کوئی گلی سڑی چیز کو اٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے کچھ بھی پرواہ نہیں کرتا۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو شہید کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اخروی دنیا کو دیکھ لیا ہے اور ان کی گواہی قابل قبول ہوگی۔اب دیکھیں نبی نے بھی جو کچھ قربان کیا ہے وہ ایک غیر مرئی ذات کی خاطر کیا ہے اور وہ لوگ جو اس سے مقابلہ کر رہے ہیں وہ دیکھی ہوئی چیزوں کو اور دیکھی جانے والی چیزوں کو اس غیر مرئی چیز پہ ترجیح دیتے ہیں۔سورج کی عبادت کرنے والے ہیں ، چاند کی عبادت کرنے والے ہیں، دنیا کے بتوں اور دنیا کے بڑے بڑے طاقت ور انسانوں کی عبادت کرنے والے ہیں ، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سب چیزیں ہمارے پاس ہیں، موجود ہیں ان کی ایک حقیقت ہے۔یہ کس طرف بلا رہے ہیں وہ غیر مرئی ذات جس کو نہ چھو سکے، نہ سونگھ سکے، نہ چکھ سکے، نہ دیکھ سکے، نہ ہاتھ ملا سکے، اس کی خاطر پاگل اپنے ان مفادات کو قربان کر رہا ہے جو سب اس کو میسر ہیں اور جو میسر نہیں ہیں وہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ دیکھو تمہیں ہم دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کے سر براہ بنانے پر آمادہ ہیں۔دنیا کی سب سے خوب صورت عورت مہیا کرنے کے لئے تیار ہیں۔تمہیں دنیا کا سب سے زیادہ مال دار انسان بنانے پر تیار ہیں مگر یہ پاگلوں والا ذکر چھوڑ دو کہ کوئی غیر مرئی چیز ہے اس کی خاطر ہم اپنے ہاتھ میں آئی ہوئی چیزوں کو قربان کر دیں لیکن وہ ان سب کو رڈ کر دیتا ہے۔پس ایسا شخص ہی ہے جو حقیقت میں خدا کی ہستی کا قائل ہے اور ایسا شخص ہی ہے جو پھر یہ حق رکھتا ہے کہ خدا