خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 437
خطبات طاہر جلد 15 437 خطبہ جمعہ 7 / جون 1996ء ملنی ہے تو پھر دگنا کر دے ورنہ پھر ہماری توفیق بڑھا۔جب تک توفیق نہ بڑھائے پھل سمیٹنے کی طاقت ہی انسان کو نہیں ہو سکتی۔اس لئے پھل پیدا کرنا تو اس کا کام ہے۔پھل سمیٹنے کی تو فیق تو ہماری توفیق ہے۔جب تک ہمیں عطا نہیں کرے گا اس وقت تک ہم ان ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر سکتے جو آنے والے مہمانوں کی ذمہ داریاں ہیں۔پس یہ جلسہ جو آنے والا ہے یہ کچھ مہمان تو لے کے آئے گا، کچھ کل عالم میں آنے والے خدا کے مہمان ہیں جو اس پہلو سے عزت کے لائق بھی ہیں ، خدمت کے حقوق بھی رکھتے ہیں مگر تربیت کے بھی محتاج ہیں اور تربیت کے پہلو سے جماعت احمد یہ پر اس کی اولین ذمہ داری ہے۔یہ آیت کریمہ جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس میں یہ تربیت کا راز بھی سکھا دیا گیا۔فرمایا بات تو بہت خوب صورت ہے کہ خدا کی طرف بلاتے ہو اور ہر بلانے والا جو مذہب سے تعلق رکھتا ہے خدا ہی کی طرف بلاتا ہے لیکن اس قول کی خوب صورتی تمہارے عمل کے حسن سے تعلق رکھتی ہے۔اگر تمہارا کر دار حسین ہے تو پھر بلانے والا بھی حسین دکھائی دے گا اور جس طرف بلایا جارہا ہے وہ بھی حسین دکھائی دے گا اور پھر اس بات میں حسن پیدا ہوتا ہے۔مگر بلاؤ اس نام پر کہ وہ بہت ہی پیارا اور کامل خدا ہے تمام قدرتوں کا مالک ہے ، سب حسن کا منبع ہے اور تم خود بدیوں کے منبع بنے ہو، تم سے بداخلاق پھوٹ رہے ہیں ، تمہاری ادائیں ناپسندیدہ ہوں ، تمہارا معاشرے میں کردار ناپسندیدہ ہو، تمہارا گھر میں کردار نا پسندیدہ ہو تمہارا دوستوں سے لین دین میں معاملات میں کردار نا پسندیدہ ہواگر یہ حالت ہے تو خدا کی طرف بلانے کا تمہیں حق بھی کیا پہنچتا ہے اور اگر بلاؤ گے تو نا واقف سمجھیں گے کہ ایسے خدا کا مرید ہے جیسا یہ آپ ہے اور اس خدا میں کس کو دلچسپی پیدا ہوگی۔پس لازم ہے کہ تم بلانے کے ساتھ اپنے کردار کو شایانِ شان بناؤ۔جس ذات کی طرف بلا رہے ہو اس کی کچھ صفات اپنے اندر جلوہ گر کرو اور کوئی سنے والا تمہاری دعوت پر کان نہیں دھرے گا جب تک اس کی آنکھیں تمہاری ذات میں وہ حسن نہیں دیکھتیں جو حسن اس خدا کی طرف منسوب ہوتا ہے جو کل عالم کا خالق ہے۔پس یہ وہ مضمون ہے عَمِلَ صَالِحًا والا جس کی طرف توجہ دلانا اس لئے بھی مقصود ہے کہ تربیت کے لئے یہ بہت ضروری ہے۔دنیا میں تربیت کے لئے قول اور عمل یہ دو ہی چیزیں ہیں جو کام کیا کرتی ہیں۔مگر ہر وہ قول جو عمل کی تائید سے خالی ہو وہ تربیت میں بھی ناکام رہتا ہے اور تبلیغ میں