خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 432 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 432

خطبات طاہر جلد 15 432 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء چارے غریب کے دل کا یہ حال ہوگا کہ اسے یہ بھی مصیبت ہوگی کہ کسی بھائی کو کسی معاملے میں مجبور کرے اور خدا کے نام پر اس سے تعاون کی درخواست کرے۔تو تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ آپ لوگ نظام جماعت سے عدل سیکھیں اور عدل کے مضمون پر غور کرتے رہیں۔ابھی تو میں نے آپ کو ہزارواں حصہ بھی وہ نہیں بتایا جو خدا تعالیٰ نے مجھے عدل کے مضمون کے اوپر نظر ڈالنے کی توفیق بخشی ہے۔زندگی کے ہر شعبے پر گہری نظر ڈال کر آپ کو عدل کے ایسے لطیف مظاہر دکھائی دیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور انسان خدا کی عظمت کے سامنے ورطہ حیرت میں غرق ہو جاتا ہے۔پس آپ بھی ان باتوں پر غور کیا کریں اور جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے عدل کے مضمون کو جتنا سمجھیں گے، جتنا اس کا عرفان ہوگا اتنا ہی آپ کو عدل کرنے کی توفیق ملے گی۔ورنہ موٹا موٹا عدل ہے جو آپ کر سکتے ہیں اس سے زیادہ نہیں کر سکتے اور جوں جوں انسان ترقی کرتا ہے موٹے عدل کا مضمون پیچھے نیچے رہ جاتا ہے۔اوپر کی ترقی بار یک عدل کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔درجے و ہیں کھڑے ہو جائیں گے جہاں موٹے عدل کا مقام آگیا ہے اور باقی ساری ترقیاں بار یک عدل کے تقاضوں کے پورا کرنے سے آتی ہیں۔پس خدا کے قرب کے مزے لوٹنے ہیں ، روحانی لذتیں حاصل کرنی ہیں ، بلند فضاؤں میں اڑنا ہے تو عدل کو اختیار کریں لیکن عدل کو سمجھیں گے تو اختیار کریں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے اور آپ کے حوالہ سے میں دنیا کی تمام جماعتوں کو بھی اس مضمون کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔ایک دو جماعتوں کے میں نے نام لئے ہیں مجبوراً کیونکہ بعض کی طرف سے بہت دیر سے تلخیاں پہنچ رہی ہیں۔صرف ان کو سمجھانے کے لئے کہ اب خدا کا خوف کرو ور نہ پھر نظام عدل تم سے کچھ اور سلوک کرے گا اور باقی اور بھی ہیں جن کا نام نہیں لیا گیا مگر میں جانتا ہوں۔مختلف ملکوں میں کئی ایسے گڑھ ہوتے ہیں جہاں ایک دو یا چند بیمار ایک بیماری کی گھٹلی بنا لیتے ہیں۔ارد گرد کا بدن صحت مند بھی ہو تو وہ گھٹلی اکیلی ہی اس کو کمزور کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ہر وقت زہر اس گھٹلی سے گھل گھل کر سارے بدن کو دکھوں میں مبتلا کرتا رہتا ہے۔پس یہ میں نہیں کہتا کہ جن جماعتوں کا میں نے حوالہ دیا ہے ان میں سارے ہی بیمار ہیں مگر یہ میں ضرور کہتا ہوں کہ گھٹلیاں ضرور ہیں اور ساری گھٹلیاں ظلم کی گھٹلیاں ہیں، عدل کے فقدان کی گھٹلیاں ہیں، تکبر کی گھٹلیاں ہیں۔یا تو ان کو کچل کے باہر نکال کے پھینکا جائے یا ان کو کاٹ کر باہر پھینکا