خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 431 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 431

خطبات طاہر جلد 15 431 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء ہے۔صاحب امر سے عدل کرنا لازم ہے اور اس عدل کا یہ تقاضا ہے کہ آپ اس کے فیصلے کے سامنے سر جھکا ئیں اور پھر اگر آپ کا کوئی حق ہے تو یا بالا نظام سے مانگیں یا خدا کے سپرد کر دیں۔اور وہ لوگ جو سچے دل سے خدا کے قائم کردہ امر کے سامنے سر جھکاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کا کبھی کوئی نقصان نہیں ہونے دیتا۔اگر وہ ایک غلط فیصلے کو غلط سمجھتے ہوئے بھی قبول کر لیتے ہیں اللہ تعالیٰ آسمان سے ان کی کمی پوری کرتا اور اس کثرت سے ان کو نعمتیں عطا فرماتا ہے کہ اگر ان کو شعور ہو تو اس تصور سے بھی وہ شرم سے پانی پانی ہو جائیں کہ ہم اپنے آپ کو بڑا کوئی تمیں مارخان سمجھ رہے تھے کہ ہم نے دیکھو عدل کی خاطر ایک غلط فیصلے کو قبول کر لیا۔معمولی سا ایک قصہ ہے جو دنیا میں ہر روز کرتے ہی ہیں۔اب دیکھو دین کے معاملے میں کتنے نخرے شروع ہو جاتے ہیں۔چھوٹے چھوٹے سر دیکھو کتنا بلند ہونے لگتے ہیں۔عام عدالتوں کے سامنے مجال ہے ان کی یہ بات کہیں کہ تم نے عدل کے خلاف بات کی ہے اس لئے ہم یہ بات نہیں مانیں گے۔حکومت جوتیاں مار کے ان سے بات منوائے گی۔مگر چونکہ خدا کی جوتی دکھائی نہیں دیتی اس لئے چھوٹی سی بات کے اوپر سر اٹھاتے اور زبانیں دراز کرتے اور کہتے ہیں دیکھوا میر نے عدل نہیں کیا اس لئے ہم بکلی آزاد ہیں۔ہم پابند نہیں ہیں کہ اس کی بات کو مانیں۔لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ کی سوٹی یا اللہ کی جوتی دکھائی نہ بھی دے تو موجودضرور ہے اور وہ ضرور گرتی ہے اور ضرور سرکوبی کرتی ہے ایسے باغیوں کی جو خدا کے قائم کردہ اس کے ایسے نمائندوں کو جو اس کی طرف سے صاحب امر بنائے جاتے ہیں ان کو حقیر سمجھتے اور اس کی شان میں گستاخی سے پیش آتے ہیں۔سمجھتے ہیں کہ ہم نے کہہ دیا کچھ بھی نہیں ہوا۔تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا تو کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے لیکن اس بے چارے نے کیا بگاڑنا ہے جس کی اپنی کوئی حیثیت نہیں۔اس کی تو حیثیت بنی ہی اس وقت تھی جب اس کو کوئی امارت سونپی گئی۔اس سے پہلے عام شہری آپ کی طرح چلتا پھرتا تھا اس کو کسی کو کچھ کہنے کا اختیار ہی نہیں تھا۔تو جس نے سب کچھ خدا کی خاطر قبول کیا ذمہ داری کے لئے اور دراصل امر ایک مصیبت ہے۔امران معنوں میں مصیبت ہے کہ اتنی بڑی ذمہ داری آپڑی ہے بیٹھے بٹھائے ایک انسان کے اوپر کہ اس کے مقابل پر جو بے امر کا روز مرہ پھرنا ہے وہ بہت زیادہ آسان اور دلکش دکھائی دیتا ہے لیکن یہ لوگ یہ نہیں سمجھتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ امر آ گیا ہے اچھا جی بڑا ہی اونچا چڑھ گیا ہے یہ شخص، ہم پر حکومتیں جتانے لگا ہے، ہمیں حکم دیتا ہے۔حالانکہ اس بے