خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 430 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 430

خطبات طاہر جلد 15 430 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء ب آپ اپنا نمائندہ مقرر کریں اور وہ ان کے خلاف فیصلہ دے تو کہتے ہیں دیکھا نا انصافی کر گیا ہے یہ شخص۔فلاں کی روٹی کھا گیا تھا ، فلاں نے اس وقت ایک دفعہ اس پر یہ احسان کیا تھا۔کم عقل آدمی ہے ہماری پوری بات سنی نہیں دوسرے کی باتوں میں آ گیا۔الله تو وہ لوگ جو یہ عذر رکھتے ہیں کہ نظام عدل نہیں کرتا ان سے بڑا جھوٹا کوئی نہیں کیونکہ وہ خود نظام سے عدل نہیں کر رہے کیونکہ نظام سے عدل کا مطلب ہے کہ وہ جب بھی کوئی فیصلہ کرے پھر اس کے سامنے سر جھکاؤ۔یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ اپنے متعلق فرماتے ہیں اگر میں بھی کسی چرب زبان انسان کی دلیل سن کر اس بات میں مطمئن ہو جاؤں کہ کوئی جائیداد اس کی ہے دوسرے کی نہیں تو اگر وہ اسے لے لے گا تو آگ کا ٹکڑا ہے جو وہ قبول کرے گا اور آگ کا ٹکڑا ہے جو وہ کھائے گا۔اس لئے اسے چاہئے کہ وہ اسے واپس کر دے۔مگر یہ احتمال ایک کھول دیا ، ایک ایسا احتمال کھولا جو عملاً آپ کی ذات میں ممکن ہی نہیں تھا کیونکہ آنحضرت ﷺ سے زیادہ صاحب فراست اور باریک اور لطیف نظر سے دیکھنے والا کبھی دنیا میں نہ پیدا ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے کیونکہ یہ تعریف کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے، سب سے زیادہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر صادق آتی ہے۔اس کے باوجود آپ کا یہ کہنا کہ میں بھی غلط فیصلہ کر دوں تو قبول ضرور کرنا ہوگا لیکن از خود پھر غلط فیصلے کو درست کرنے کی خاطر جو حق تمہیں دیا گیا ہے ، جب کہ تمہاراحق نہیں تھا ، اسے شوق سے خود واپس کرو لیکن تعمیل ضرور ہوگی۔یہ نکتہ لوگ نہیں سمجھتے یعنی حضور اکرم ﷺ تو غلط فیصلہ کر ہی نہیں سکتے مگر فرماتے ہیں اگر میں بھی کروں۔حضرت فاطمہ سے متعلق چوری کا کوئی دور کا تصور بھی ممکن نہیں مگر فرماتے ہیں کہ میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹوں گا۔یہ عدل ہے، حیرت انگیز عدل ہے اور انسانی بشری کمزوری کے حق کو اپنی ذات میں تسلیم کرنا دراصل عدل کا تقاضا تھا۔آپ یہ کہہ سکتے تھے کہ میں نبی اللہ ہوں، نبیوں کا سردار ہوں، مجھ سے کبھی کوئی غلط فیصلہ نہیں ہوسکتا۔مگر یہ عدل کے خلاف ہوتا کیونکہ آپ بشر بھی تھے اور ایک بشر لاعلمی میں بعض دفعہ کوئی بات سن کر ایک غلط نتیجہ نکال بھی سکتا ہے۔پس عدل کا عجیب مضمون ہے وہ بڑوں پر بھی چسپاں ہوتا ہے، چھوٹوں پر بھی چسپاں ہوتا ہے، ہر زندگی کے پہلو پر مختلف بھیس بدل کر آتا ہے مگر اسے پہچاننا ہوگا کیونکہ عدل ہی میں ہماری زندگی ہے اور عدل ہی کے نتیجہ میں پھر امر پیدا ہوتا ہے اور اگر آپ امر سے عدل نہ کریں تو یہ سب سے بڑا گناہ