خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 37
خطبات طاہر جلد 15 37 خطبہ جمعہ 12 جنوری 1996ء صلى الله ضرور ملیں گے۔ اس لئے تم حسد کر دیا نہ کرو اس کا کوئی اثر بھی نیک رستوں پر چلنے والوں پر نہیں پڑے گا لیکن دوسری طرف بھی ایک خطرہ ہے۔ جن راہوں میں تم محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی نہیں کرو گے وہاں ہمیشہ خطروں کی تلوار کے نیچے پڑے رہو گے ۔ اس لئے اللہ بہتر جانتا ہے کہ تمہارا انجام کس صورت میں ہو۔ ایسا نہ ہو کہ بعض راہیں جن میں تم آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سلامتی کی راہوں پر قدم مار رہے ہو ان کے مقابل پر ان راہوں کے خطرات بڑھ جائیں جن پر تم زنجیروں میں پڑے بند اندھیروں میں بیٹھے ہوئے ہو۔ تم کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے ۔ اگر ایسے وقت میں موت آجائے تو یہ ناکامی اور نامرادی کی موت ہے اور اگر ایسے وقت میں آئے کہ ساری راہیں اس ایک راہ پر اکٹھی ہو جائیں جو نور کی ہے وَاتَّبَعُوا النُّورَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَةً أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ یقینی طور پر کامیاب ہونے والے لوگ ہیں ۔ صلى الله پس جہاں ان باریک راہوں پر نظر رکھیں ، اپنے نفس کوٹٹولتے رہیں ، اپنے پر لازم کر لیں کہ ہم نے ضرور اس سفر میں آگے بڑھنا ہے وہاں اس کی بعض علامتیں اپنے اندر جانچتے رہا کریں، دیکھتے رہا کریں وہ پیدا ہوئی ہیں کہ نہیں ہوئی ہیں تو آگے بڑھ رہی ہیں کہ نہیں ۔ ان میں بعض موٹی موٹی علامتیں یہ ہیں کہ آپ دین کے لئے اپنی طاقتوں کو قربان کرتے ہوئے دین کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نہیں۔ اگر عَزَّرُوہ کا عمل آپ کی ذات پر اثر نہیں دکھا رہا۔ اگر محمد رسول للہ ﷺ کے احسان کی باتیں تو کرتے ہیں ، آپ کے نور کے گیت تو الاپتے ہیں لیکن اس کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے۔ اگر محسن اعظم کہتے ہیں ۔ کہتے ہیں تو سب دنیا کا محسن ہے اور اپنے احسانوں کو بھول جاتے ہیں ۔ آپ پر جو احسان ہوئے ان کا بدلہ اتارنے کی خواہش ہی دل میں پیدا نہیں ہوتی۔ تو پھر آپ آنحضرت ﷺ کے احسانات کا بدلہ اس طرح اتارنے کی کوشش نہیں کریں گے کہ آپ کے دین کے غلبہ کی خاطر اپنی طاقت کو دین کی طاقت کی طرف منتقل کریں ۔ وہ مالی طاقت بھی ہو سکتی ہے ، وہ جسمانی طاقت بھی ہو سکتی ہے۔ غرضیکہ ہر قسم کی طاقت جو خدا نے آپ کو عطا کی ہے عَزَّرُوهُ کا عمل آپ پر ہونا چاہئے ۔ وَنَصَرُوهُ میں وہ کون سا زائد مضمون ہے جو عَزَّرُوهُ میں نہیں ہے۔ یہ بھی ایک قابل توجہ بات ہے۔ نصر کا دائرہ بہت وسیع ہے اور نصر دراصل اللہ کی طرف سے اترتی ہے ۔ پس دعا ئیں جو ہیں وہ خصوصیت کے ساتھ نَصَرُوهُ کے تابع آتی ہیں ۔ وہ اپنی