خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 36
خطبات طاہر جلد 15 36 36 خطبہ جمعہ 12 /جنوری 1996ء لئے ، یقین کی حالت پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جزوی انعامات سے بخشتا رہتا ہے اور جس دائرے میں وہ نیکی اختیار کرتا ہے، جس پاک راہ پر چلتا ہے اس راہ کے انعامات سے اس کو اس لئے محروم نہیں کر دیتا کہ جب تک تم تمام راہوں کو اختیار نہیں کرو گے میں تمہیں کسی راہ کی جزاء نہیں دوں گا۔یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔پس ایسے پاک لوگ جو ابھی پاکی کا سفر کر رہے ہیں ابھی سفر کا آغاز ہوا ہے ان کو آغاز ہی سے اللہ تعالیٰ اپنے انعامات سے نواز نا شروع فرما دیتا ہے اور باہر سے دیکھنے والا جوان انعامات سے محروم ہوتا ہے جس کو پتا ہی نہیں کہ تعلق باللہ کی کیا کیا منازل ہیں، کیسے کیسے اس کے عارفانہ مضامین ہیں وہ اپنی جہالت میں اور کچھ حسد کے نتیجے میں اس کی ایک سچی رؤیا کو دیکھ کر مذاق اڑاتا ہے کہ بڑا نیک بنا پھرتا ہے۔ہمیں نہیں پتا فلاں کمزوری اس میں واقع ہے۔فلاں معاملہ میں تو یہ ٹھو کر کھا گیا تھا۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیار کے لئے یہی نظر آیا ہو، اب یہ اعتراض تو بظاہر ایک خاص معین طور پر ایک عام انسان پر کیا جا رہا ہے۔مگر یہ بھولنا نہیں چاہئیے کہ اپنی مکمل صورت میں یہی اعتراض انبیاء پر بھی کیا جاتا رہا ہے اور قرآن اس ذکر سے بھرا ہوا ہے۔ہر نبی کو اسی اعتراض کا نشانہ بنایا گیا کہ خدا کو یہی نظر آیا ہے اپنے کلام کے لئے اور اپنے لئے انتخاب کرنے کی خاطر ! ہم جانتے ہیں عام سا انسان ہے تو ان کی آنکھ جو دیکھ رہی ہے ایک نبی کو، اس کو بھی اس لائق نہیں پا رہی کہ خدا اسے اپنے فضلوں کا وارث بنائے اور حسد کی آنکھ ہے دراصل۔پس حسد کی آنکھ تنگ ہوا کرتی ہے اور حسد کی آنکھ سے جب اپنے بھائیوں کو آپ دیکھتے ہیں تو آپ کوصرف ایک برائی دکھائی دیتی ہے اور ارد گرد کا اس کا جو منظر ہے وہ نظر سے غائب ہو جاتا ہے۔پس ایک Slit میں سے آپ دیکھتے ہیں اور اسی لئے چشم حسود کو تنگی کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔وہ آنکھیں جو حسد کی وجہ سے نبیوں کی خوبیاں دیکھنے سے بھی عاری ہو جاتی ہیں وہ لازماً یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ اس شخص میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو خدا اسے اپنے کلام کے لئے چن لے اور وہ انسان جو کمزور انسان ہیں جن کا نبوت سے کوئی رشتہ ہے تو محض غلامی کا رشتہ ہے ان پر بھی اعتراض اٹھتا ہے۔تو یہ فطری اعتراض ہے، انسانی فطرت کی بعض کمزوریاں جن میں حسد سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ کمزوریاں پاکوں پر حملہ کرواتی ہیں اور یہ نہیں دیکھیں کہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت ملے کے ذریعہ اگر ایک بھی ہدایت کی راہ نصیب کی ہو تو اس ہدایت کی راہ کے نشان اس راہ پر بندے کو