خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 417 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 417

خطبات طاہر جلد 15 417 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء رفتہ ایسے لوگ خود دنیا کی نظر میں جس کے کیڑے بن چکے ہوں اپنی عظمت اور قد رکھو بیٹھتے ہیں۔پس ایسا خوفناک نقشہ دنیا کی غلامی کا جو دو مختلف مثالوں میں بیان فرمایا گیا ایک طرف ہے اور دوسری طرف اللہ کے غلاموں کا نقشہ ہے جو ہر آزاد سے بڑھ کر قابل تعریف اور ہر آزاد سے بڑھ کر آزادی کا متحمل ہے اور حقیقت میں خدا کی غلامی کے سوا آزادی کا تصور ہی کوئی نہیں ہے۔یہ پہلو جو ہے اس کو میں آپ کے سامنے کھول کر رکھنا چاہتا ہوں۔جو علامتیں ہیں وہ واضح ہیں۔اگر کسی شخص میں دنیا داری کا اتتار جحان ہو کہ وہ ہر طرح اپنے مال و دولت جس کی خاطر جیتا ہے اس کا غلام ہو کر رہ جائے تو ایسا شخص خدا کے ہاں مقبول نہیں ہو سکتا اور اس کی نشانی یہ ہے کہ وہ نہ چھپ کر خدا کی راہ میں خرچ کر سکتا ہے نہ ظاہر ہو کر خرچ کر سکتا ہے اور پھر دنیا بھی اسے قبول نہیں کرتی اور دنیا میں اس کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔جس کام پر ہاتھ ڈالتا ہے وہ اس کے لئے ، اس کی اولاد کے لئے ، اس کی دنیا کے لئے ، اس کی عاقبت کے لئے دراصل خیر و برکت سے عاری ہوا کرتا ہے۔پس آپ کے لئے دو ہی رستے ہیں یا دنیا کی غلامی قبول کریں یا خدا کی غلامی میں آجائیں اور خدا کی غلامی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہر دوسرے بندھن سے آزاد کرتی ہے اور اس میں ایک ادنیٰ بھی مبالغہ نہیں ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جو اللہ کا غلام ہو وہ ہر بات میں فیصلہ خدا سے چاہتا ہے اور ہر فیصلہ اس کی رضا کی خاطر کرتا ہے اور دنیا کی رضا یا ان کی خاطر بیچ میں سے بالکل نکل جاتی ہے پس وہ نہ بادشاہ کی خاطر کچھ کرتا ہے، نہ اپنے ملک کے سربراہ کی خاطر یعنی اس سے ڈر کر۔نہ اپنے عزیزوں سے ڈر کر یا ان کی خاطر۔جو بھی بھلائی کرتا ہے، جو بھی خیر کرتا ہے اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھتا ہے۔تو جو شخص ہر دوسرے کی رضا سے آزاد ہو جائے ، جو ہر دوسرے کے خوف سے آزاد ہو جائے اس سے بڑا آزاد کوئی دنیا میں ہو ہی نہیں سکتا۔اس کی سوچیں آزاد ہو جاتی ہیں۔اس کی نیتیں آزاد ہو جاتی ہیں اور چونکہ اللہ کی غلامی ہے اس لئے اس کی ہر بات میں ایک برتری ، ایک بالا دستی پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ اللہ کی رضا کے اندر ایک غیر معمولی طاقت ہے اور اللہ کی رضا سچائی ہی کا دوسرا نام ہے۔اللہ کی رضا ہی سے عدل پیدا ہوتا ہے۔پس خدا تعالیٰ نے اس مضمون کا آخری نچوڑ یہ نکالا کہ وہ شخص جو خدا کا غلام ہے اس غلام کے مقابل پر اس کی شان دیکھو کہ وہ عدل کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے یعنی اس کے اندر ایک توازن پیدا ہو جاتا ہے۔