خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 415
خطبات طاہر جلد 15 415 خطبہ جمعہ مورخہ 31 مئی 1996ء ذکر چل رہا ہے اور اس کے مقابل پر اس کا جسے رِزْقًا حَسَنًا عطا کیا جاتا ہے۔مَّمْلُوكًا کا لفظ ، حالانکہ غلام مملوک ہی ہوا کرتا ہے، زائد طور پر یہ بتانے کے لئے ظاہر فرمایا گیا کہ وہ شخص جو دنیا کا غلام ہو جائے ، دنیا کا بندہ بن جائے وہ ہر پہلو سے مملوک، یعنی اس کی آزادیاں ہر طرح سلب ہو چکی ہوتی ہیں۔کسی ایک پہلو سے بھی وہ کوئی آزادی کا سانس نہیں لے سکتا ، سو فیصدی دنیا کا غلام بن کے رہتا ہے اور اسے بھی تو خدا رزق دیتا ہے مگر اس رزق پر اس کا اپنا اختیار کوئی نہیں ہوتا۔اپنی مرضی سے خرچ بھی نہیں کر سکتا اور شیطان اور دنیا کی غلامی اس پر بھی قابض ہو جاتے ہیں اور اس کے رزق پر بھی قابض ہو جاتے ہیں۔پھر وہ ایسی منحوس چیز بن جاتا ہے کہ جہاں بھی جائے اچھی خبر کبھی نہیں لاتا بلکہ اس کے ہر کام میں نحوست اور بے برکتی ہوتی ہے۔یہ دنیا کا غلام ہے جس کی بات ہورہی ہے اور جو پوری طرح غلامی کے بندھنوں میں جکڑا جائے اسے عبد مملوک فرمایا گیا ہے۔اس کے مقابل پر اپنے بندوں کا ذکر ہے اور حقیقت یہ ہے کہ عبد کا لفظ جب خدا کے تعلق میں بولا گیا ہے تو سب سے اعلیٰ ایک اعزاز ہے جس سے اوپر اعزاز کبھی کسی نبی یا غیر نبی کو نہیں دیا گیا۔عبادالرحمن بھی ہیں اور بھی عباد کا ذکر ملتا ہے مگر آنحضرت ﷺ کو جب عبد اللہ کہا گیا تو یہ ایک لقب تھا اور اس لقب سے بڑھ کر کبھی کسی نبی کو کوئی لقب عطا نہیں کیا گیا۔تو دیکھیں ایک وہ عَبْدَا مَّمْلُوكًا ہے جس کا تحقیر سے ذکر ہے، بالکل ظاہر بات ہے اور ایک وہ عہد ہے جو تمام دنیا کا سردار ہے۔پس یہاں دنیا کے غلام اور اللہ کے غلام کا موازنہ ہورہا ہے۔عام غلام کی بات نہیں ہو رہی اور وہ جو اللہ کا غلام ہو جائے جو بھی خدا اس کو رزق احسن عطا فرماتا ہے پھر وہ اپنا ہوتے ہوئے بھی اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ایک وہ دنیا کا غلام ہے جس کو اپنے مال پر بھی کوئی اختیار نہیں ہے، کوئی اس کو دسترس نہیں ہے کہ اپنی مرضی سے کچھ کر سکے۔ایک وہ ہے جسے مالک خود دیتا ہے اور بہت دیتا ہے۔پاکیزہ رزق عطا فرماتا ہے اور کہتا ہے یہ تیرا ہو گیا اور وہ پھر اس کی راہ میں پیش کر دیتا ہے۔تو ایک مجبوری کی غلامی ہے ، ایک طوعی غلامی ہے اور طوعی غلامی کے یہ انداز ہیں۔جو محبت کے بندھن میں باندھے ہوئے غلاموں کے اطوار ہیں، جو ان کے طریق ، ان کے اخلاق ہیں وہ حضرت محمدعلی کی سیرت میں ہمیں دکھائی دیتے ہیں اور دراصل یہاں انہی کا ذکر چل رہا ہے۔فرمایا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَ جَهْرًا وہ چھپ کر بھی اس رزق سے جو خدا اسے